Naqshbandia Sardaria The Silsila Of Hadhrat Abu Baqar Sidiq (ra)

 

سلسلہ عالیہ نقشبندیہ سرداریہ

 

 
اَلَاۤ اِنَّ اَوۡلِيَآءَ اللّٰهِ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَۖ ۚ‏ ﴿٦۲﴾ سن رکھو کہ جو خدا کے دوست ہیں ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ﴿٦۲﴾                                                                                                                                 سلسلہ عالیہ نقشبندیہ سرداریہ                                                                                                            The Silsila Of Hadrat Abu Bakar Sidiq (RA)                                    اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيد                 مبارک ھو مسلما نوں اس دور زلا لت میں ھوا اکمل ولی الله یک داھے دھر پیدا کیا جس نے بنظر کرم اپنے فیض باراں سے قلب کے باغ ویراں میں مہبت کا ثمر پیدا     شریعت مصطفے کو جس نے زندا کر کے دکھلایا           میرے حضر ت کو آکر گر عقید ت سے کوئ دیکھے تو اس کے د ل میں  ھو گا دل یقین جلوہ زکر پیدہ                                            اگر کوئ طا لب الله ھو میر ے پا س آے یک لخت اس کو الله والا بنا د و نگا

Home Allah Swt Zikr Allah Swt Nabi Mohammad Saw About Us Contact Us

علوم الحدیث

 

 

 

Ulum Hadis 

Haji Mohammad Shafiq Malaysia

 

علوم الحدیث: ایک تعارف

March 2010

 

فہرست

  دیباچہ

حصہ اول: تعارف

یونٹ 1: علوم الحدیث کا تعارف

سبق 1: تدوین حدیث کی تاریخ (History of Hadith Compilation)

احادیث کی تدوین: پہلی، دوسری اور تیسری صدی ہجری میں

وضع احادیث کے اسباب

سوالات

سبق 2: احادیث کی چھان بین کے طریقے

سند کا اتصال

سوالات

سبق 3: حدیث کی چھان بین اور تدوین پر جدید ذہن کے سوالات(1)

حدیث کی چھان بین کی ضرورت کیا ہے؟

فن حدیث پیچیدہ کیوں ہے؟

احادیث کو دیر سے کیوں مدون کیا گیا؟

سوالات

سبق 4: حدیث کی چھان بین اور تدوین پر جدید ذہن کے سوالات (2)

کہیں ہم صحیح احادیث کو رد تو نہیں کر رہے؟

دین کو سمجھنے کے لئے حدیث کا کردار کیا ہے؟

بعد کی صدیوں میں حدیث پر زیادہ کام کیوں نہیں کیا گیا؟

سوالات

سبق 5: دور جدید میں حدیث کی خدمت کی کچھ نئی جہتیں

سوالات

سبق 6: علوم حدیث کی اہم اور مشہور کتب

سوالات

سبق 7: علم المصطلح کی بنیادی تعریفات(1)

علم المصطلح

علم المصطلح کا موضوع

علم المصطلح کا مقصد

حدیث

روایت

خبر

اثر

اسناد

سند

متن

مُسنَد (نون پر زبر کے ساتھ)

مُسنِد (نون پر زیر کے ساتھ)

مُحدِّث

سوالات

سبق 8: علم المصطلح کی بنیادی تعریفات(2)

حافظ

حاکم

راوی

شیخ

صحت و ضعف

موضوع

متصل اور منقطع روایت

ضبط

تابعین اور تبع تابعین

شرح

عربوں کے نام

سن وفات

حدیث کے کتاب کے مصنف کی شرائط (Criteria)

تخریج

شیخین اور صحیحین

سوالات

سبق 9: کتب حدیث کا ایک تعارف

صحیح احادیث پر مشتمل کتب

احکام کی احادیث پر مشتمل کتب

راوی صحابی کی ترتیب پر مشتمل کتابیں

اساتذہ کی ترتیب پر مشتمل کتابیں

احادیث و آثار پر مشتمل کتابیں

جامع کتب

اجزا

سیرت

تاریخ

اسائنمنٹ

سبق 10: مشہور محدثین کا تعارف

ابوحنیفہ نعمان بن ثابت (80-150H/699-767CE)

مالک بن انس (93-179H/712-795CE)

عبداللہ بن مبارک (118-181H/736-797CE)

سفیان بن عینیہ (107-198H/725-814CE)

محمد بن ادریس شافعی (150-204H/767-820CE)

یحیی بن معین (159-233H/775-848CE)

احمد بن حنبل (164-241H/780-855CE)

محمد بن اسماعیل بخاری  (194-256H/810-870CE)

مسلم بن حجاج (204-261H/820-875H)

ابو عیسی ترمذی (209-279H/824-892CE)

ابن ابی حاتم رازی (240-327H/854-938CE)

احمد بن حسین البیہقی (384-458H/994-1066CE)

خطیب بغدادی (392-463H/1002-1071CE)

ابن عبدالبر (368-464H/978-1071CE)

عبد الغنی المقدسی (541-600H/1146-1203CE)

ابن الاثیر (555-630H/1160-1230CE)

جلال الدین سیوطی (849-911H/1445-1505CE)

اسائنمنٹ

حصہ دوم: خبر (حدیث)

یونٹ 2: خبر کی اقسام

سبق 1: تاریخی معلومات کے حصول کے ذرائع

سوالات

سبق 2: خبر متواتِر

متواتر کی تعریف

متواتر کی شرائط

متواتر کا حکم

متواتر کی اقسام

متواتر کا وجود

متواتر سے متعلق مشہور تصانیف

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 3: خبر واحد

خبر واحد کی تعریف

خبر واحد کا حکم

خبر واحد کی اقسام

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 4: خبر مشہور

خبر مشہور کی تعریف

خبر مشہور کی مثال

خبر مستفیض اور خبر مشہور

غیر اصطلاحی معنی میں خبر مشہور

غیر اصطلاحی خبر مشہور کی اقسام

خبر مشہور کا حکم

خبر مشہور سے متعلق اہم تصانیف

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 5: خبر عزیز

خبر عزیز کی تعریف

تعریف کی وضاحت

خبر عزیز کی مثالیں

خبر عزیز سے متعلق اہم تصانیف

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 6: خبر غریب (اکیلے شخص کی خبر)

خبر غریب کی تعریف

تعریف کی وضاحت

خبر غریب کا دوسرا نام

خبر غریب کی اقسام

غریب نسبی کی ذیلی اقسام

غریب احادیث کی دوسری تقسیم

غریب احادیث کہاں پائی جاتی ہیں؟

غریب احادیث سے متعلق مشہور تصانیف

سوالات اور اسائنمنٹ

یونٹ 3: خبر مقبول

سبق 1: خبر واحد کی قوت (قابل اعتماد ہونے) کے اعتبار سے اس کی تقسیم

خبر مقبول کی اقسام

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 2: صحیح حدیث (1)

صحیح حدیث کی تعریف

تعریف کی وضاحت

صحیح حدیث کی شرائط

صحیح حدیث کی مثالیں

صحیح حدیث کا حکم

اس بات کا کیا مطلب ہے کہ "یہ حدیث صحیح ہے" اور "یہ حدیث صحیح نہیں ہے"

کیا کسی سند کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ وہ ہمیشہ صحیح ترین سند ہی ہو گی؟

صرف صحیح احادیث پر مبنی سب سے پہلی تصنیف کون سی ہے؟

ان میں سے کون سی زیادہ صحیح ہے؟

کیا بخاری و مسلم نے تمام صحیح حدیثیں اپنی کتابوں میں شامل کر لی ہیں؟

کیا ان کتب میں درج ہونے سے بہت زیادہ احادیث باقی رہ گئی ہیں یا تھوڑی سی؟

ان دونوں میں احادیث کی تعداد کیا ہے؟

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 3: صحیح حدیث (2)

جو صحیح احادیث بخاری و مسلم میں درج ہونے سے رہ گئی ہیں، وہ کہاں پائی جاتی ہیں؟

مستدرک حاکم، صحیح ابن حبان اور صحیح ابن خزیمۃ

صحیح بخاری اور صحیح مسلم پر مستخرجات

بخاری و مسلم کی کون سی روایات صحیح ہیں؟

صحیح حدیث کے مراتب و درجات

شیخین (امام بخاری و امام مسلم) کی شرائط

"متفق علیہ" کا مطلب

کیا صحیح حدیث کا عزیز ہونا ضروری ہے؟

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 4: حسن حدیث

حسن حدیث کی تعریف

حسن حدیث کا حکم

حسن حدیث کی مثالیں

حسن حدیث کے درجات

"صحیح الاسناد" اور "حسن الاسناد" حدیث کا معنی

امام ترمذی وغیرہ کے قول "یہ حدیث حسن صحیح ہے" کا معنی

امام بغوی کی کتاب "مصابیح السنۃ" میں احادیث کی تقسیم

حسن حدیث کہاں پائی جاتی ہے؟

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 5: صحیح لغیرہ

صحیح لغیرہ کی تعریف

صحیح لغیرہ کا درجہ

صحیح لغیرہ کی مثالیں

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 6: حسن لغیرہ

حسن لغیرہ کی تعریف

حسن لغیرہ کا درجہ

حسن لغیرہ کا حکم

حسن لغیرہ کی مثالیں

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 7: خبر واحد جسے شواہد و قرائن کی بنیاد پر قبول کیا جائے

وضاحت

اقسام

حکم

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 8: مُحکَم اور مُختَلِف حدیث

"محکم" کی تعریف

"مختلِف" کی تعریف

'مختلف' کی مثال

تضاد کو دور کرنے کی مثال

مختلف احادیث کا حکم

اختلاف حدیث کے فن کی اہمیت اور اس کی تکمیل کیسے کی گئی ہے؟

مختلف احادیث میں مشہور ترین تصانیف

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 9: ناسخ اور منسوخ حدیث

"نسخ" کی تعریف

"نسخ" کی اہمیت، مشکلات اور اس میں مشہور ماہرین

ناسخ و منسوخ کا علم کیسے ہوتا ہے؟

حدیث کے ناسخ و منسوخ سے متعلق اہم تصانیف

سوالات اور اسائنمنٹ

یونٹ 4: خبر مردود (مسترد شدہ خبر)

سبق 1: خبر مردود اور اسے مسترد کرنے کے اسباب

تعریف

خبر مردود کی اقسام اور اس کے اسباب

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 2: ضعیف حدیث

"ضعیف" کی تعریف

ضعیف حدیث کے درجات

کمزور ترین اسناد

ضعیف حدیث کی مثالیں

ضعیف حدیث کی روایت کا حکم

ضعیف حدیث پر عمل کرنے کا حکم

ضعیف حدیث پر مشتمل مشہور تصانیف

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 3: اسقاط سند کے باعث مسترد کردہ حدیث

"اسقاط سند" کی تعریف

"سقوط سند" کی اقسام

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 4: معلق حدیث

"معلق حدیث" کی تعریف

"معلق حدیث" کی صورتیں

"معلق حدیث" کی مثالیں

"معلق حدیث" کا حکم

صحیحین میں موجود معلق احادیث کا حکم

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 5: مُرسَل حدیث

"مرسل حدیث" کی تعریف

"مرسل حدیث" کی صورت

"مرسل حدیث" کی مثال

فقہ اور اصول فقہ کے ماہرین کے نزدیک "مرسل حدیث" کا معنی

"مرسل حدیث" کا حکم

صحابی کی "مرسل حدیث"

صحابی کی "مرسل حدیث" کا حکم

"مرسل حدیث" سے متعلق مشہور تصانیف

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 6: مُعضَل حدیث

"معضل حدیث" کی تعریف

"معضل حدیث" کی مثال

"معضل حدیث" کا حکم

معضل اور معلق احادیث میں بعض مشترک خصوصیات

"معضل حدیث" کہاں پائی جاتی ہے؟

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 7: مُنقطِع حدیث

"منقطع حدیث" کی تعریف

تعریف کی وضاحت

متاخرین کے نزدیک "منقطع حدیث" کی تعریف

"منقطع حدیث" کی مثال

"منقطع حدیث" کا حکم

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 8: مُدَلّس حدیث

تدلیس کی تعریف

تدلیس کی اقسام

تدلیس اسناد

تدلیس تسویہ

تدلیس شیوخ

تدلیس کا حکم

تدلیس شیوخ کے مقاصد

تدلیس کرنے والے کی مذمت کے اسباب

تدلیس کرنے والے کی دیگر روایات کا حکم

تدلیس کا علم کیسے ہوتا ہے؟

تدلیس اور مدلسین کے بارے میں مشہور تصانیف

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 9: مُرسَل خفی

مرسل خفی کی تعریف

مرسل خفی کی مثال

مرسل خفی کیسے پہچانی جاتی ہے؟

مرسل خفی کا حکم

مرسل خفی سے متعلق مشہور تصانیف

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 10: مُعََنعَن اور مُؤَنَن احادیث

تمہید

معنعن کی تعریف

معنعن کی مثال

معنعن متصل ہے یا منقطع؟

مؤنن حدیث کی تعریف

مؤنن حدیث کا حکم

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 11: راوی پر الزام کے باعث مردود حدیث

راوی پر الزام کا مطلب

راوی پر الزام کے اسباب

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 12: موضوع حدیث

موضوع حدیث کی تعریف

موضوع حدیث کا درجہ

موضوع حدیث کی روایت کرنے کا حکم

جعلی احادیث ایجاد کرنے کا طریقہ

موضوع حدیث کو کیسے پہچانا جائے؟

جعلی احادیث ایجاد کرنے کی وجوہات اور احادیث گھڑنے والوں کی خصوصیات

وضع حدیث کے بارے میں فرقہ کرامیہ کا نقطہ نظر

موضوع حدیث بیان کرنے کے بارے میں بعض مفسرین کی غلطی

موضوع حدیث کے بارے میں مشہور تصانیف

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 13: متروک حدیث

متروک حدیث کی تعریف

راوی پر جھوٹ بولنے کا الزام لگائے جانے کے اسباب

متروک حدیث کی مثال

متروک حدیث کا درجہ

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 14: "مُنکَر" حدیث

"منکر" حدیث کی تعریف

منکر اور شاذ میں فرق

"منکر" حدیث کی مثال

"منکر" حدیث کا درجہ

معروف حدیث

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 15: مُعَلَّل حدیث

معلل حدیث کی تعریف

"علّت" کی تعریف

لفظ "علت" کا غیر اصطلاحی معنی میں استعمال

"علل حدیث" کے فن کی اہمیت اور اس کے ماہرین

کس قسم کی اسناد میں علل تلاش کی جاتی ہیں؟

علت کو معلوم کرنے کے لئے کس چیز سے مدد لی جاتی ہے؟

معلل حدیث کو جاننے کا طریق  کار کیا ہے؟

علت کہاں موجود ہوتی ہے؟

کیا سند کی علتوں سے متن بھی متاثر ہوتا ہے؟

معلل حدیث سے متعلق مشہور تصانیف

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 16: نامعلوم راوی کی بیان کردہ حدیث

تعریف

عدم واقفیت کے اسباب

مثالیں

مجہول کی تعریف

مجہول کی اقسام

عدم واقفیت کے اسباب سے متعلق مشہور تصانیف

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 17: بدعتی راوی کی بیان کردہ حدیث

تعریف

بدعت کی اقسام

بدعتی کی بیان کردہ حدیث کا حکم

بدعتی کی حدیث کا کیا کوئی خاص نام ہے؟

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 18: کمزور حفاظت والے راوی کی بیان کردہ حدیث

کمزور حفاظت کی تعریف

کمزور حفاظت کی اقسام

کمزور حفاظت والے راوی کی بیان کردہ احادیث کا حکم

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 19: ثقہ راویوں کی حدیث سے اختلاف کے باعث مردود حدیث

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 20: مُدرَج حدیث

مدرج حدیث کی تعریف

مدرج حدیث کی اقسام

مدرج حدیث کی مثال

ادراج کرنے کی وجوہات

ادراج کا علم کیسے ہوتا ہے؟

ادراج کا حکم

مدرج حدیث کے بارے میں مشہور تصانیف

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 21: مَقلُوب حدیث

مقلوب حدیث کی تعریف

مقلوب حدیث کی اقسام

قلب کی وجوہات

قلب کا حکم

مقلوب حدیث سے متعلق مشہور تصانیف

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 22: "المَزید فی مُتصل الاسانید" حدیث

"المزید فی متصل الاسانید" حدیث کی تعریف

"المزید فی متصل الاسانید" حدیث کی مثال

مثال میں "اضافے" کی وضاحت

اضافے کو مسترد کرنے کی شرائط

اضافے سے متعلق اعتراضات

"المزید فی متصل الاسانید" حدیث سے متعلق مشہور تصنیف

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 23: "مضطرب" حدیث

"مضطرب" حدیث کی تعریف

"مضطرب" حدیث کی تعریف کی وضاحت

اضطراب کی تحقیق کرنے کی شرائط

"مضطرب" حدیث کی اقسام

اضطراب کس سے واقع ہو سکتا ہے؟

"مضطرب" حدیث کے ضعیف ہونے کی وجہ

"مضطرب" حدیث سے متعلق مشہور تصنیف

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 24: "مُصحَّف" حدیث

"مصحف" حدیث کی تعریف

"مصحف" حدیث کی اہمیت اور دقت

"مصحف" حدیث کی اقسام

کیا تصحیف کی وجہ سے راوی پر الزام عائد کیا جاتا ہے؟

کثرت سے تصحیف کرنے کی وجہ

"مصحف" حدیث سے متعلق مشہور تصانیف

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 25: "شاذ" اور "محفوظ" حدیث

"شاذ" حدیث کی تعریف

"شاذ" حدیث کی تعریف کی وضاحت

شذوذ (شاذ ہونا) کہاں پایا جاتا ہے؟

"محفوظ" حدیث کی تعریف

"شاذ" اور "محفوظ حدیث کا حکم

سوالات اور اسائنمنٹ

یونٹ 5: مقبول و مردود دونوں قسم کی احادیث پر مشتمل تقسیم

سبق 1: نسبت کے اعتبار سے حدیث کی تقسیم

حدیث قدسی

حدیث قدسی کی تعریف

حدیث قدسی اور قرآن مجید میں فرق

احادیث قدسی کی تعداد

حدیث قدسی کی مثال

حدیث قدسی کی روایت کرنے کے الفاظ

حدیث قدسی سے متعلق مشہور تصانیف

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 2: "مَرفُوع" حدیث

مرفوع حدیث کی تعریف

مرفوع حدیث کی تعریف کی وضاحت

مرفوع حدیث کی اقسام

مرفوع حدیث کی مثالیں

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 3: "مَوقُوف" حدیث

موقوف حدیث کی تعریف

موقوف حدیث کی تعریف کی وضاحت

موقوف حدیث کی مثالیں

لفظ "موقوف" کا دیگر استعمال

فقہاء خراسان کے نزدیک "موقوف" کی تعریف

مرفوع قرار دی جانے والی موقوف احادیث سے متعلق احکام

کیا موقوف حدیث سے استدلال کیا جا سکتا ہے؟

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 4: "مَقطُوع" حدیث

مقطوع حدیث کی تعریف

مقطوع حدیث کی تعریف کی وضاحت

مقطوع حدیث کی مثالیں

مقطوع حدیث سے دینی احکام اخذ کرنے کا حکم

مقطوع اور منقطع

مقطوع حدیث کہاں پائی جاتی ہے؟

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 5: "مُسنَد" حدیث

مسند حدیث کی تعریف

مسند حدیث کی مثال

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 6: "مُتَصِّل" حدیث

متصل حدیث کی تعریف

متصل حدیث کی مثال

کیا تابعی کے قول کو بھی متصل کہا جا سکتا ہے؟

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 7: زیادات الثقات

زیادات الثقات کا معنی

زیادات الثقات کے ماہرین

زیادات الثقات کا مقام

متن میں اضافے  کا حکم

زیادات الثقات کی مثالیں

اسناد میں اضافے کا حکم

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 8: اعتبار، متابع، شاھد

تعریف

کیا شاہد و تابع، اعتبار کی اقسام ہیں؟

تابع و شاہد کا دوسرا مفہوم

متابعت

مثالیں

سوالات اور اسائنمنٹ

حصہ سوم: جرح و تعدیل

یونٹ 6: راوی اور اسے قبول کرنے کی شرائط

سبق 1: جرح و تعدیل کا تعارف

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 2: راوی کے قابل اعتماد ہونے کی شرائط

راوی کا عادل ہونا کیسے ثابت ہوتا ہے؟

عدالت کے ثبوت کے بارے میں ابن عبدالبر کا نقطہ نظر

راوی کے ضبط کا علم کیسے ہوتا ہے؟

کیا جرح و تعدیل کو بغیر کسی وضاحت کے قبول کر لیا جائے گا؟

کیا جرح یا تعدیل ایک ماہر کی رائے سے ثابت ہو جاتی ہے؟

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 3: جرح و تعدیل سے متعلق چند اہم مباحث

اگر کسی راوی کے بارے میں جرح اور تعدیل دونوں پائی جائیں توکیا کیا جائے؟

کسی راوی کے بارے میں اسی سے مروی تعدیل کی روایات کا حکم

فسق و فجور سے توبہ کرنے والے سے حدیث قبول کرنے کا حکم

حدیث کی تعلیم کا معاوضہ لینے والے سے حدیث قبول کرنے کا حکم

تساہل، سستی اور غلطیاں کرنے والے سے حدیث قبول کرنے کا حکم

حدیث بیان کر کے بھول جانے والے کی بیان کردہ احادیث کا حکم

سوالات اور اسائنمنٹ

یونٹ 7: جرح و تعدیل سے متعلق تصانیف

سبق 1: جرح و تعدیل سے متعلق تصانیف

سوالات اور اسائنمنٹ

یونٹ 8: جرح و تعدیل کے درجات (Levels)

سبق 1: جرح و تعدیل کے بارہ درجات

سبق 2: تعدیل کے مراتب اور اس سے متعلق الفاظ

تعدیل کے مختلف مراتب کا حکم

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 3: جرح کے مراتب اور اس سے متعلق الفاظ

جرح کے مختلف مراتب کا حکم

سوالات اور اسائنمنٹ

حصہ چہارم: روایت، اس کے آداب اور اس کے ضبط کا طریق کار

یونٹ 9: ضبط روایت

سبق 1: حدیث کو حاصل، محفوظ اور روایت کرنے کا طریق کار

تمہید

کیا حدیث کو حاصل کرنے کے لئے مسلمان اور بالغ ہونا ضروری ہے؟

حدیث کو حاصل کرنے کا عمل کتنی عمر میں شروع کرنا بہتر ہے؟

کیا کم عمری میں حدیث کو حاصل کرنے کے عمل کے صحیح ہونے کی کوئی کم از کم حد مقرر ہے؟

سبق 2: حدیث کو حاصل کرنے کے مختلف طریقے

شیخ کے الفاظ میں سننا (سماع حدیث)

شیخ کے سامنے حدیث پڑھ کر سنانا

اجازت

مناولۃ (دے دینا)

کتابت

اعلام

وصیت

وجادہ

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 3: کتابت حدیث اور حدیث سے متعلق تصانیف کا طریق کار

حدیث کو تحریر کرنے کا حکم

احادیث لکھنے کے بارے میں اختلاف رائے کی وجوہات

احادیث لکھنے سے منع کرنے اور اجازت دینے کی تطبیق

حدیث کو تحریر کرنے والے کو کیا احتیاطی تدابیر کرنی چاہییں؟

احادیث کا اصل ماخذ سے موازنہ

کتب حدیث میں استعمال ہونے والی بعض اصطلاحات

طلب علم کے لئے سفر

حدیث کی تصانیف کی اقسام

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 4: روایت حدیث کا طریق کار

روایت حدیث کے طریق کار کی وضاحت

اگر راوی نے حدیث کو حفظ نہ کیا ہو تو کیا محض کتاب سے پڑھ کر اسے روایت کرنا درست ہے؟

نابینا شخص کی روایت حدیث کا حکم

حدیث کی روایت بالمعنی اور اس کی شرائط

حدیث میں لحن اور اس کے اسباب

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 5: غریب الحدیث

تعریف

اس فن کی اہمیت

غریب الفاظ کی بہترین توضیح

مشہور تصانیف

سوالات اور اسائنمنٹ

یونٹ 10: آداب روایت

سبق 1: محدث کے لئے مقرر آداب

تمہید

محدث کی شخصیت میں کیا خصوصیات ہونی چاہییں؟

حدیث کی تعلیم و املاء کی مجلس کے لئے کس چیز کا اہتمام بہتر ہے؟

حدیث کی تعلیم دینے کے لئے مناسب عمر کیا ہے؟

مشہور تصانیف

سبق 2: حدیث کے طالب علم کے لئے مقرر آداب

تمہید

محدث اور طالب علم دونوں سے متعلق آداب

صرف طالب علم سے متعلق آداب

حصہ پنجم: اسناد اور اس سے متعلقہ علوم

یونٹ 11: اسناد سے متعلق اہم مباحث

سبق 1: عالی اور نازل اسناد

تمہید

تعریف

عُلُوّ کی اقسام

نزول کی اقسام

علو بہتر ہے یا نزول

مشہور تصانیف

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 2: مسلسل

تعریف

تعریف کی وضاحت

مسلسل کی اقسام

راویوں کی حالت کے اعتبار سے تسلسل

راویوں کی خصوصیات کے اعتبار سے تسلسل

روایت کی خصوصیت کے اعتبار سے تسلسل

سب سے بہتر تسلسل

تسلسل کے فوائد

کیا تسلسل کا تمام راویوں میں پایا جانا ضروری ہے؟

کیا مسلسل حدیث کا صحیح ہونا ضروری ہے؟

مشہور تصانیف

سبق 3: اکابر کی اصاغر سے حدیث کی روایت

تعریف

تعریف کی وضاحت

اقسام

روایت الاکابر عن الاصاغر کی صورتیں

فوائد

مشہور تصانیف

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 4: باپ کا بیٹے سے حصول حدیث

تعریف

مثال

فوائد

مشہور تصانیف

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 5: بیٹے کا باپ سے حصول حدیث

تعریف

اہمیت

اقسام

فوائد

مشہور تصانیف

سبق 6: مُدَبَّج اور روایت الاَقران

اقران کی تعریف

روایت الاقران کی تعریف

مدبج کی تعریف

مدبج کی مثالیں

فوائد

مشہور تصانیف

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 7: سابق اور لاحق

تعریف

مثال

فوائد

مشہور تصانیف

سوالات اور اسائنمنٹ

یونٹ 12: اسماء الرجال (راویوں کا علم)

سبق 1: صحابہ کرام

صحابی کی تعریف

اہمیت و فوائد

کسی شخص کے صحابی ہونے کا علم کیسے ہوتا ہے؟

تمام صحابہ عادل ہیں؟

کثرت سے احادیث روایت کرنے والے صحابہ

سب سے زیادہ علم والے صحابی

عبادلہ سے کیا مراد ہے؟

صحابہ کی تعداد

صحابہ کے طبقات

فضیلت والے صحابہ

سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے صحابہ

سب سے آخر میں وفات پانے والے صحابہ

مشہور تصانیف

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 2: تابعین

تابعی کی تعریف

فوائد

تابعین کے طبقات

مخضرمین

تابعین کے سات فقہاء

تابعین میں سب سے افضل حضرات

تابعین میں سب سے افضل خواتین

مشہور تصانیف

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 3: راویوں میں رشتہ

اہمیت

فوائد

مثالیں

مشہور تصانیف

سبق 4: متفق اور مفترق راوی

تعریف

مثالیں

اہمیت

ایک ہی نام کے مختلف افراد میں فرق بیان کرنا کب ضروری ہے؟

مشہور تصانیف

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 5: مُوتلِف اور مختلِف راوی

تعریف

مثالیں

کیا حرکات اور نقاط کو درج کیا جاتا ہے؟

اہمیت اور فوائد

مشہور تصانیف

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 6: متشابہ راوی

تعریف

مثالیں

فوائد

متشابہ کی دیگر اقسام

مشہور تصانیف

سبق 7: مُہمَل راوی

تعریف

مہمل ہونے سے کب فرق پڑتا ہے؟

مثالیں

مہمل اور مبہم میں فرق

مشہور تصانیف

سبق 8: مبُہَم راوی

تعریف

فوائد

مبہم کو متعین کیسے کیا جا سکتا ہے؟

مبہم کی اقسام

مشہور تصانیف

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 9: وُحدان راوی

تعریف

فوائد

مثالیں

کیا بخاری و مسلم نے بھی وحدان سے حدیث روایت کی ہے؟

مشہور تصانیف

سبق 10: راویوں کے مختلف نام، القاب اور کنیتیں

تعریف

مثال

فوائد

خطیب بغدادی کا اپنے اساتذہ کے مختلف نام استعمال کرنا

مشہور تصانیف

سبق 11: راویوں کے منفرد نام، صفات اور کنیت

تعریف

فوائد

مثالیں

مشہور تصانیف

سبق 12: کنیت سے مشہور راویوں کے نام

تمہید

فوائد

کنیت کے فن میں تصنیف کا طریق کار

کنیت سے مشہور افراد کی اقسام اور مثالیں

مشہور تصانیف

سبق 13: القاب

تعریف

القاب کی بحث

فوائد

اقسام

مثالیں

مشہور تصانیف

سبق 14: اپنے والد کے علاوہ کسی اور سے منسوب راوی

تعارف

فوائد

اقسام اور مثالیں

مشہور تصانیف

سبق 15: کسی علاقے، جنگ یا پیشے سے منسوب راوی

تمہید

فوائد

مثالیں

مشہور تصانیف

سبق 16: راویوں سے متعلق اہم تاریخیں (Dates)

تعریف

اہمیت

مثالیں

مشہور تصانیف

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 17: حادثے کا شکار ہو جانے والے ثقہ راوی

تعریف

مثالیں

صاحب اختلاط کی روایات کا حکم

مشہور تصانیف

سبق 18: علماء اور راویوں کے طبقات

تعریف

فوائد

کیا کوئی راوی ایک اعتبار سے ایک طبقے اور دوسرے اعتبار سے دوسرے طبقے سے متعلق ہو سکتا ہے؟

طبقات کے محقق کو کس بات کا علم ہونا چاہیے؟

مشہور تصانیف

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 19: آزاد کردہ غلام

تعریف

مولٰی کی اقسام

فوائد

مشہور تصانیف

سبق 20: ثقہ اور ضعیف راوی

تعریف

اہمیت

مشہور تصانیف

سبق 21: راویوں کے ممالک اور شہر

تعارف

فوائد

عرب و عجم کے لوگوں کو کس سے منسوب کیا جاتا رہا ہے؟

شہر تبدیل کرنے والے شخص کو کس سے منسوب کیا جائے؟

جو شخص کسی شہر کے قریبی گاؤں سے تعلق رکھتا ہو تو اسے کس سے منسوب کیا جاتا ہے؟

کتنی مدت کے قیام سے کسی شخص کو اس شہر سے منسوب کیا جاتا ہے؟

مشہور تصانیف

حصہ ششم: حدیث کو پرکھنےکا درایتی معیار

یونٹ 13: درایت حدیث

سبق 1: درایت حدیث کا تعارف

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 2: شاذ حدیث

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 3: علم و عقل کے مسلمات کے خلاف حدیث

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 4: حدیث کا سیاق و سباق اور موقع محل

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 5: حدیث کو تمام متعلقہ آیات و احادیث کے ساتھ ملا کر سمجھنے کی اہمیت

سوالات اور اسائنمنٹ

سبق 6: موضوع حدیث کی پہچان

حدیث میں نامعقول سی بات بیان کی گئی ہو

حدیث میں حسی مشاہدے کے خلاف بات کہی گئی ہو

حدیث میں بیہودہ سی بات بیان کی گئی ہو

حدیث میں ظلم یا برائی کی تلقین کی گئی ہو

حدیث میں کوئی حکم دیا گیا ہو اور تمام صحابہ کرام کا عمل اس کے خلاف ہو

حدیث میں کوئی باطل بات کہی گئی ہو

حدیث کلام انبیاء کے مشابہ نہ ہو

کسی متعین تاریخ یا مہینے کے بارے میں کوئی عجیب و غریب بات بیان کی گئی ہو

حدیث اطباء کے کلام سے مشابہ ہو

حدیث میں عقل کی تخلیق سے متعلق عجیب و غریب بات ہو

سیدنا خضر علیہ السلام سے متعلق احادیث

حدیث میں واضح شواہد کے خلاف کوئی بات ہو

حدیث قرآن کے صریحا خلاف ہو

حدیث میں مخصوص ایام کی خاص نمازوں کا ذکر ہو

حدیث میں گھٹیا زبان استعمال کی گئی ہو

حدیث میں کسی خاص گروہ کی برائی بیان کی گئی ہو

حدیث میں معروف تاریخی حقائق کے خلاف بات بیان کی گئی ہو

حدیث میں خاص سورتوں کی تلاوت کے فضائل بیان کئے گئے ہوں

حدیث میں مخصوص صحابہ اور علماء کے فضائل بیان کئے گئے ہوں

سوالات اور اسائنمنٹ

مصادر اور مراجع

دیباچہ

پچھلی صدی میں جدید تعلیم یافتہ طبقے میں سے بعض افراد کو یہ غلط فہمی لاحق ہو گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی احادیث ہم تک قابل اعتماد ذرائع سے نہیں پہنچی ہیں۔ اس غلط فہمی کے پھیلنے کی وجہ یہ تھی کہ اس کو پھیلانے والے حضرات اعلی تعلیم یافتہ اور دور جدید کے اسلوب بیان سے اچھی طرح واقف تھے۔ اہل علم نے اس نظریے کی تردید میں بہت سی کتابیں لکھی ہیں جو اپنی جگہ انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔

          میرے نقطہ نظر کے مطابق اس ضمن میں ایک بہت ہی اہم کام کرنا باقی تھا اور وہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی احادیث کو جانچنے اور پرکھنے کے طریق کار کو دور جدید کے اسلوب میں تعلیم یافتہ طبقے تک پہنچا دیا جائے۔ اگر یہ کام کر دیا جائے تو علم و عقل کی بنیاد پر سوچنے والا ہر غیر متعصب شخص باآسانی اس نتیجے پر پہنچ سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی احادیث ہم تک نہایت ہی قابل اعتماد ذرائع سے پہنچی ہیں اور اس ضمن میں ہمارے محدثین نے جو خدمات انجام دی ہیں ان کا معیار نہایت ہی بلند ہے۔

          اس کام کو کرنے کا ایک طریقہ تو یہ تھا کہ اصول حدیث سے متعلق جدید انداز میں ایک کتاب لکھ دی جاتی اور دوسری صورت یہ تھی کہ اس فن کا جو بہت بڑا علمی ذخیرہ عربی زبان میں موجود ہے اسے جدید طرز کی اردو زبان میں منتقل کر دیا جاتا۔ میں نے دوسری صورت کو ترجیح دیتے ہوئے یہ خدمت انجام دینے کی کوشش کی ہے۔

          اس خدمت کے لئے میں نے پہلے تو امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ کی "نزھۃ النظر شرح نخبۃ الفکر" کا انتخاب کیا لیکن اس کے مطالعے سے یہ اندازہ ہوا کہ اس کتاب کو جدید اسلوب میں پیش کرنے کے لئے کتاب میں کافی تصرفات کرنا ہوں گے۔ اس کے برعکس دور جدید ہی کے ایک عرب عالم ڈاکٹر محمود طحان کی کتاب "تیسیر مصطلح الحدیث" پہلے ہی دور جدید کے اسلوب میں لکھی گئی ہے تو کیوں نہ اسی کتاب کے مندرجات کو آسان اردو میں پیش کر دیا جائے۔

          یہ کتاب بہت سے دینی مدارس کے نصاب میں اصول حدیث کی ابتدائی کتاب کے طور پر پڑھائی جا رہی ہے۔ اس کتاب کے مصنف ڈاکٹر محمود طحان کا تعلق شام سے ہے اور ان کی ساری عمر سعودی عرب اور کویت کی یونیورسٹیوں میں حدیث اور اس سے متعلقہ علوم کی تدریس میں گزری ہے۔ اس کتاب میں ہم نے آزاد ترجمانی کا اصول اختیار کر کے مصنف کی کتاب کو آسان انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس کتاب میں پہلے اور آخری یونٹ کا اضافہ ہم نے خود کیا ہے

          اگرچہ اس کتاب کا اردو ترجمہ پہلے ہی کیا جا چکا ہے۔ اس ترجمے میں فاضل مترجم نے مصنف کی تحریر کو من و عن اردو میں منتقل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس ترجمے میں بہت سے مقامات پر ایسے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جو دینی مدارس کے طلباء کے لئے تو یقیناً قابل فہم ہیں لیکن ایک عام تعلیم یافتہ قاری کے لئے انہیں سمجھنا مشکل ہو گا۔

          اس کے علاوہ مجھے یہ ضرورت بھی محسوس ہوئی کہ بہت سے مقامات پر قارئین کو کچھ نکات کی وضاحت کی ضرورت درکار ہو گی۔ دینی مدارس کے طلباء کے لئے تو یہ وضاحت ان کے اساتذہ کتاب کی تدریس کے دوران ہی کرتے رہتے ہیں لیکن پورے پس منظر سے عدم واقفیت کے باعث ایک جدید تعلیم یافتہ قاری کے لئے اس وضاحت کے بغیر پوری بات کو سمجھنا ممکن نہ ہو گا۔ اس وجہ سے ترجمے کے ساتھ ساتھ بہت سے مقامات پر میں نے اضافی معلومات فراہم کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔

          کتاب کو اردو اسلوب میں ڈھالنے کے لئے یہ اقدامات کیے گئے ہیں:

       یہ کوشش کی گئی ہے کہ فنی اصطلاحات میں وہیں گفتگو کی جائے جہاں قاری اس اصطلاح سے پہلے ہی واقف ہو چکا ہے ورنہ اس بات کو سادہ زبان میں بیان کیا جائے۔

       مصنف نے کتاب کی ترتیب کے لئے 'باب' اور 'فصل' کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ چونکہ فصل کا لفظ جدید کتب میں اب کم ہی استعمال کیا جاتا ہے، اس وجہ سے میں نے 'باب' کو 'حصہ' اور 'فصل' کو 'یونٹ' میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

       مختلف مباحث کو نمبروار درج کر دیا گیا ہے۔ یونٹ 3 میں کچھ مباحث کی ترتیب میں معمولی سی تبدیلی کی گئی ہے۔

       قارئین کو علوم الحدیث سے جدید انداز میں روشناس کروانے کے لئے شروع میں ایک یونٹ کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس یونٹ میں تدوین حدیث کی تاریخ، حدیث سے متعلق اہم سوالات کے جوابات، اصول حدیث کی مشہور کتب کا تعارف اور فن حدیث کی بنیادی اصطلاحات کو شامل کر دیا گیا ہے۔

       مصنف نے چونکہ "درایت حدیث" سے متعلق مواد اپنی کتاب میں درج نہ کیا تھا، اس وجہ سے ضمیمے کے طور پر خطیب بغدادی کی کتاب "اصول کفایۃ"، جلال الدین سیوطی کی کتاب "تدریب الراوی" اور حافظ ابن قیم کی "منار المنیف" سے متعلقہ مباحث نقل کر دیے گئے ہیں۔

       فن حدیث کے بعض مباحث کی توضیح کے لئے ڈائیا گرامز سے مدد لی گئی ہے۔

       لفظی ترجمے کی بجائے آزاد ترجمانی کا اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔

          اس کوشش میں میں اپنے استاذ محمد عزیر شمس صاحب کا بہت مشکور ہوں جن کی راہنمائی مجھے اس کام کے دوران حاصل رہی۔

          قارئین سے گزارش ہے کہ وہ اپنے تاثرات اور تنقید بلا جھجک مجھے بھیجیں تاکہ اس کتاب کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ اسی طرح جن قارئین کے ذہن میں علم حدیث سے متعلق کوئی بھی سوال موجود ہو، وہ بلاتکلف مجھے لکھ بھیجیں۔ انشاء اللہ میں جلد از جلد اس کا اپنے ناقص علم کی حد تک جواب دینے کی کوشش کروں گا۔

Mohammad Shafiq 

حصہ اول: تعار


 

یونٹ 1: علوم الحدیث کا تعارف

اس روئے زمین پر دین کا تنہا ماخذ حضور نبی اکرم  صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی ذات والا صفات ہے۔ آپ ہی کی ذات مبارکہ ہے جس کے ذریعے ہمیں اللہ تعالیٰ کی ہدایت قرآن مجید کی صورت میں ملی اور آپ ہی کی سنت مبارکہ کے ذریعے ہماری جسمانی و روحانی تطہیر اور تزکیے کا اہتمام کیا گیا۔ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی حیات طیبہ کے بارے میں ہمارے لئے ےتفصیلی معلومات کا واحد ذریعہ حدیث ہے۔ احادیث اور اس سے متعلق معلومات کی تدوین امت مسلمہ کا ایسا کارنامہ ہے جو اس سے پہلے کسی اور قوم نے انجام نہیں دیا۔ اس کی تفصیل یہاں بیان کی جا رہی ہے۔

سبق 1: تدوین حدیث کی تاریخ (History of Hadith Compilation)

احادیث کی تدوین: پہلی، دوسری اور تیسری صدی ہجری میں

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے شب و روز حضور  صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی صحبت میں گزرا کرتے تھے۔ انہوں نے آپ کی بہت سی باتوں کو نوٹ کیا اور آپ کی حیات طیبہ میں اور اس کے بعد اسے بیان کرنا شروع کردیا۔ صحابہ کرام سے یہ علم تابعین کو منتقل ہوا۔

           ہمیں جن صحابہ کرام علیہم الرضوان سے یہ حدیثیں سب سے زیادہ تعداد میں مل سکی ہیں ان میں حضرت ابوہریرہ، عبداللہ بن عمر بن خطاب، انس بن مالک، ام المومنین حضرت عائشہ، عبداللہ بن عباس، جابر بن عبداللہ، ابوسعید خدری، عبداللہ بن مسعود،  عبد اللہ بن عمرو بن عاص، علی المرتضی، اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہم کی شخصیات بہت نمایاں ہیں۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سے صحابہ سے احادیث مروی ہیں لیکن ان کی تعداد کافی کم ہے۔ بعض صحابہ نے ذاتی طور پر احادیث کو لکھ کر محفوظ کرنے کا کام بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی حیات طیبہ ہی میں شروع کر دیا تھا۔

          صحابہ کے بعد تابعین کا دور آیا۔ تابعین ان لوگوں کو کہتے ہیں جنہوں نے صحابہ کا زمانہ پایا اور ان سے دین سیکھا۔ اگرچہ تابعین حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے زمانے سے بہت قریب تھے لیکن آپ  صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی زیارت کی سعادت حاصل نہ کرسکے تھے چنانچہ وہ بڑے اشتیاق کے ساتھ صحابہ کرام سے آپ کی باتیں سنا کرتے تھے۔ یہی شوق ان کے بعد تبع تابعین، یعنی وہ حضرات جنہوں نے تابعین کا زمانہ پایا اور ان سے دین سیکھا، اور ان کے بعد کی نسلوں میں منتقل ہوا۔ بہت سے تابعین نے بھی اپنے ذخیرہ احادیث کو تحریری صورت میں محفوظ بھی کرلیا تھا۔

          رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے حاصل کردہ معلومات کے بیان کا معاملہ انتہائی حساس (Sensitive) ہے۔ ایک متواتر اور مشہور حدیث کے مطابق اگرکوئی آپ سے جھوٹی بات منسوب کر دے تو اس کا ٹھکانہ جہنم میں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ اس معاملے میں صحابہ کرام علیہم الرضوان بہت احتیاط فرمایا کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے بڑے بڑے صحابہ جیسے سیدنا ابوبکر، عمر، عثمان، طلحۃ، زبیر، ابوعبیدہ، عباس رضی اللہ عنہم سے مروی احادیث کی تعداد بہت کم ہے۔

          ایسا ضرور ہوا ہے کہ بعض مواقع پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور خاص یہ ارشاد فرمایا کہ ان باتوں کو دوسروں تک پہنچا دیا جائے۔ اس کی ایک مثال حجۃ الوداع کا خطبہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ خطبہ ہم تک معنوی اعتبار سے تواتر سے پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ جن صحابہ نے احادیث بیان کرنے کا سلسلہ شروع کیا ، وہ ان کے اپنے ذوق، فہم ، رجحان طبع اور Initiative   کی بنیاد پر تھا۔ احادیث کے معاملے کی اسی حساسیت کی وجہ سے حدیث کو بیان کرنے والے افراد نے یہ اہتمام کیا کہ کوئی حدیث ان تک جس جس شخص سے گزر کر پہنچی، انہوں نے اس کا پورا ریکارڈ رکھا۔

          کچھ ہی عرصے میں احادیث بیان کرنے والوں کو معاشرے اور حکومت کی طرف سے غیر معمولی مقام حاصل ہوگیا۔ اس ممتاز طبقے کو محدثین کہا جاتا ہے۔ ان محدثین نے اپنی پوری پوری عمریں حدیث رسول  صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی تعلیم و تبلیغ میں صرف کر دیں۔ یہ حضرات ایک ایک حدیث کا علم حاصل کرنے کے لئے سینکڑوں میل کا سفر کرنے سے بھی گریز نہ کرتے۔

وضع احادیث کے اسباب

اس صورتحال کے کچھ منفی اثرات بھی سامنے آئے۔ اسی دور میں اپنی طرف سے باتیں گھڑ کر حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی طرف منسوب کرنے کا فتنہ پیدا ہوا جو دین میں پیدا کئے جانے والے فتنوں میں سب سے زیادہ شدید ہے۔ ان گھڑی ہوئی حدیثوں کو"موضوع حدیث" یعنی وضع کی گئی جعلی حدیث کا نام دیا گیا۔ جعلی حدیثیں گھڑنے جیسا مذموم فعل کرنے کے پیچھے بہت سے عوامل تھے جن میں سے اہم یہ ہیں:

  • پچھلے آسمانی مذاہب کی طرح اسلام کے دشمن بھی حضور  صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے زمانے ہی سے مسلمانوں میں کچھ گمراہ کن افکار داخل کرنے کی کوشش میں تھے۔ خلافت راشدہ کے دور میں انہیں اس کا موقع نہ مل سکا۔ بعد کے ادوار میں انہیں اس کا ایک موقع میسر آگیا۔ ان لوگوں کے لئے یہ تو ممکن نہ تھا کہ اپنی طرف سے قرآن مجید یا سنت متواترہ میں کوئی اضافہ کر سکتے کیونکہ ان کو کروڑوں مسلمان اپنے قولی و فعلی تواتر سے آگے منتقل کر رہے تھے، البتہ حدیث کے میدان میں ان کے لئے کسی حد تک گنجائش موجود تھی۔چنانچہ اپنے افکار کو پھیلانے کے لئے انہوں نے حدیثیں گھڑنے کا کام شروع کردیا۔ ابن ابی العوجاء نامی حدیثیں ایجاد کرنے والے ایک شخص کو بصرہ کے گورنر محمد بن سلیمان بن علی کے پاس لایا گیا تو اس نے اعتراف کیا: "میں نے تم لوگوں میں 4000 جعلی احادیث پھیلا دی ہیں، جن میں میں نے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کر دیا ہے۔[1]" اس کے جواب میں اسے کہا گیا کہ محدثین انہیں چھانٹ کر الگ کر لیں گے۔

  • اس دور تک امت میں سیاسی گروہ بندی بھی اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی۔ ہر دھڑے کے کم علم اور کم فہم افراد نے اپنی اپنی پسندیدہ شخصیات کے فضائل اور ناپسندیدہ شخصیات کی مذمت میں جعلی حدیثیں گھڑیں اور انہیں بیان کرنا شروع کردیا۔

  • اس وقت تک مسلمانوں میں فرقہ پرستی کی وبا پھیل چکی تھی۔ بہت سے فرقہ پرست متعصب افراد نے اپنے نقطہ نظر اور افکار کی حمایت اور اپنے مخالفین کی مذمت میں احادیث وضع کرنا شروع کیں۔ جرح و تعدیل کے مشہور امام ابن ابی حاتم نے اپنی کتاب "الجرح و التعدیل" کے مقدمے میں ایسے ہی ایک صاحب، جو احادیث گھڑا کرتے تھے اور بعد میں اس مذموم عمل سے توبہ کر چکے تھے، کا یہ قول نقل کیا ہے، "اس بات پر نگاہ رکھو کہ تم اپنا دین کن لوگوں سے اخذ کر رہے ہو۔ ہمارا یہ حال رہا ہے کہ جب ہمیں کوئی چیز پسند ہوتی تو اس کے لئے حدیث گھڑ لیا کرتے تھے۔"[2]

  • چونکہ محدثین کو معاشرے میں باعزت مقام حاصل تھا اور ان کے لئے دنیاوی جاہ اور مال و دولت کے دروازے کھلے تھے، اس لئے بعض مفاد پرستوں نے بھی یہ فوائد حاصل کرنے کے لئے اپنی طرف سے حدیثیں گھڑ کر پھیلانا شروع کردیں۔ یہ مفاد پرست خود تو اس قابل تھے نہیں کہ محدثین جتنی محنت کر سکتے، انہوں نے سستی شہرت کے حصول کا یہ طریقہ اختیار کیا کہ اپنی طرف سے احادیث وضع کرنا شروع کر دیں۔

  • بعض ایسے بھی نامعقول لوگ تھے جنہوں نے محض اپنی پراڈکٹس کی سیل میں اضافے کے لئے ان چیزوں کے بارے میں حدیثیں گھڑنا شروع کردیں۔ مثال کے طور پر ہریسہ (ایک عرب مٹھائی) بیچنے والا ایک شخص یہ کہہ کر ہریسہ بیچا کرتا تھا کہ حضور  صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کو ہریسہ بہت پسند تھا۔

  • بعض ایسے افراد بھی تھے جو ذاتی طور پر بہت نیک تھے۔ انہوں نے جب یہ دیکھا کہ مسلم معاشرے میں دنیا پرستی کی وبا پھیلتی جارہی ہے تو انہوں نے اپنی ناسمجھی اور بے وقوفی میں دنیا پرستی کی مذمت ، قرآن مجید کی سورتوں اور نیک اعمال اور اوراد و وظائف کے فضائل میں حدیثیں گھڑ کر بیان کرنا شروع کردیں تاکہ لوگ نیکیوں کی طرف مائل ہوں۔ انہی جعلی احادیث کی بڑی تعداد آج بھی بعض کم علم مبلغ اپنی تقاریر میں زور و شور سے بیان کرتے ہیں۔ مصر کے مشہور محدث اور محقق علامہ احمد محمد شاکر (م 1957ء) لکھتے ہیں، "احادیث گھڑنے والوں میں بدترین لوگ اور مسلمانوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والے وہ ہیں جنہوں نے خود کو زہد و تصوف سے وابستہ کر رکھا ہے۔ یہ لوگ نیکی کے اجر اور برائیوں کے برے انجام سے متعلق احادیث وضع کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے بلکہ اس خود فریبی میں مبتلا ہیں کہ اپنے اس عمل کے ذریعے وہ اللہ سے اجر پائیں گے۔"[3] امام مسلم، صحیح مسلم کے مقدمے میں لکھتے ہیں، "ہم نے ان صالحین کو حدیث سے زیادہ کسی اور چیز میں جھوٹ بولتے نہیں دیکھا۔"[4]

ان تمام عوامل کے نتیجے میں حدیث کے پاکیزہ اور خالص ذخیرے میں بہت سی جعلی احادیث کی ملاوٹ ہوگئی۔اس موقع پر ہمارے محدثین (اللہ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائے) نے ایک نہایت ہی اعلیٰ نوعیت کا اہتمام فرمایا۔ انہوں نے اپنی دن رات کی محنت سے احادیث بیان کرنے والوں کی عمومی شہرت کا ریکارڈ مرتب کرنا شروع کردیا۔ ان کی ان کاوشوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسماء الرجال اور جرح و تعدیل کا وہ فن وجود میں آیا جس کی مثال تاریخ عالم میں نہیں ملتی۔ مشہور جرمن مستشرق ڈاکٹر اسپرنگر کے مطابق یہ ایک ایسا فن ہے جس کی مدد سے پانچ لاکھ افراد کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔

سوالات

       عہد رسالت اور عہد صحابہ کے تمدنی حالات کا ایک خاکہ بیان کیجیے۔ اس دور کی علمی محافل کیسی ہوا کرتی تھیں؟ تعلیم کا نظام کیا تھا؟ علم کو کس طرح سے محفوظ کیا جاتا تھا۔

       حدیث وضع کرنے والوں کی شخصیت کا تجزیہ کیجیے۔ ایسے افراد کی نفسیات میں ایسے کیا مسائل ہوا کرتے تھے جو انہیں حدیث وضع کرنے جیسا عظیم جرم کرنے کی ترغیب دیتے تھے۔

سبق 2: احادیث کی چھان بین کے طریقے

علم حدیث میں کسی بھی حدیث کے دو حصے مانے جاتے ہیں: ایک حصہ اس کی سند اور دوسرا متن۔ "سند" سے مراد وہ حصہ ہوتا ہے جس میں حدیث کی کتاب کو ترتیب دینے والے امامِ حدیث  (Compiler)   سے لے کر حضور  صلی اللہ علیہ و الہ و سلم تک کے تمام راویوں (حدیث بیان کرنے والے) کی مکمل یا نامکمل زنجیر (Chain of Narrators)   کی تفصیلات بیان کی جاتی ہیں۔

          "متن" حدیث کا اصل حصہ ہوتا ہے جس میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کا کوئی ارشاد، آپ کا کوئی عمل یا آپ سے متعلق کوئی حالات بیان کئے گئے ہوتے ہیں۔ سند کی تحقیق میں سند کا حدیث کی کتاب کے مصنف سے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم تک ملا ہوا ہونا اور راویوں پر جرح و تعدیل شامل ہیں جبکہ متن کی تحقیق کو درایت حدیث کہا جاتا ہے۔

سند کا اتصال

سب سے پہلے تو یہ دیکھا جاتا ہے کہ سند حدیث بیان کرنے والے سے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم تک ملی ہوئی ہے یا نہیں۔ اگر ایک راوی کی وفات مثلاً 200ھ میں ہوئی ہے اور کوئی شخص اس سے 210ھ میں حدیث روایت کرنے کا دعوی کر رہا ہو تو ظاہر ہے وہ اپنے دعوے میں درست نہیں ہے۔ ایسی صورت میں سند متصل (یعنی ملی ہوئی) نہیں بلکہ منقطع (ٹوٹی ہوئی) ہوتی ہے۔

راویوں پر جرح و تعدیل

فن رجال وہ علم ہے جس میں حدیث بیان کرنے والے تقریباً تمام راویوں کی عمومی شہرت کا ریکارڈ مل جاتا ہے۔ حدیث میں اس ملاوٹ کی وجہ سے محدثین نے احادیث کو پرکھنے کے اصول مرتب کئے تاکہ فلٹر کرکے اصلی اور جعلی احادیث میں فرق کیا جاسکے۔ ان اصولوں کو سمجھنے کے لئے ہم ایک مثال سے وضاحت کرتے ہیں۔

          فرض کیجئے امام ترمذی اپنی کتاب "الجامع الصحیح سنن" میں جو جامع ترمذی کے نام سے مشہور ہے ایک حدیث بیان کرتے ہیں۔ اس حدیث کے سند والے حصے میں سند کچھ یوں بیان ہوتی ہے:  "ہم سے اس حدیث کو راوی 'اے' نے بیان کیا، ان سے اس حدیث کو 'بی' نے بیان کیا، ان سے اس حدیث کو 'سی' نے بیان کیا، انہوں نے اس حدیث کو 'ڈی' سے سنا اور انہوں نے 'حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ' کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا: ---------- [حدیث کا متن]"۔

          اس حدیث میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے لے کر امام ترمذی تک پانچ افراد ہیں جن میں سے ایک صحابی رسول سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہیں اور ان کے علاوہ چار اور اشخاص ہیں، چھٹے امام ترمذی خود ہیں۔ ہمیں یہ چیک کرنا ہے کہ کیا یہ حدیث واقعی حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ارشاد فرمائی تھی یا پھر کسی نے اسے اپنی طرف سے وضع کرکے آپ کی طرف منسوب کر دیا ہے یعنی دوسرے لفظوں میں یہ چیک کرنا ہے کہ یہ حدیث اصلی ہے یا جعلی۔

          اس چیکنگ کے لئے محدثین نے جو ٹسٹ ایجاد کئے ہیں، ان میں سے سب سے پہلا اور اہم ترین یہ ہے کہ حدیث کے راویوں کو اچھی طرح دیکھ لیا جائے کہ وہ قابل اعتبار ہیں کہ نہیں۔ اس اصول کی بنیاد قرآن مجید کی اس آیت پر ہے:  یا ایھا الذین اٰمنوا ان جاء کم فاسق بنبا فتبینوا۔ (الحجرات 49:4) "اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی اچھی طرح جانچ پڑتا ل کرلو۔"

          امام ترمذی حدیث کے مشہور امام ہیں اور ان کے حالات ہمیں تفصیل سے معلوم ہیں۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ وہ انتہائی دیانت دار،  محتاط اور قابل اعتماد شخص ہیں۔ اس معاملے میں ان کے بارے میں پوری امت کا اتفاق ہے ۔ ان کی کتاب جامع ترمذی ان کی زندگی ہی میں مشہور ہوگئی تھی۔ بہت سے طلباء نے ان سے یہ کتاب پڑھی تھی۔ اس کی سینکڑوں کاپیاں ان کی زندگی ہی میں تیار ہو کر عالم اسلام میں پھیل چکی تھیں۔ اس وقت سے لے کر آج تک اس کتاب کی لاکھوں کاپیاں تیار کی جاچکی ہیں اور ہر دور میں، ہر دینی مدرسے میں حدیث کے طالب علم اس کتاب کو پڑھتے آرہے ہیں، اس کی بہت سی شروحات (Commentaries) لکھی جاچکی ہیں، چنانچہ اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ کسی نے ان کی کتاب میں اپنی طرف سے کوئی حدیث گھڑ کر لکھ دی ہو۔

          ایسا ضرور ممکن ہے کہ جامع ترمذی کے مختلف نسخوں میں کتابت وغیرہ کی غلطیوں کے باعث تھوڑا بہت فرق پایا جاتا ہو لیکن مجموعی طور پر اس کتاب کے اپنے مصنف کی طرف منسوب ہونے کے بارے میں کوئی اختلاف موجود نہیں ہے۔ جامع ترمذی کے ہر دور کے نسخے دنیا بھر کی لائبریریوں اور میوزیمز میں دستیاب ہیں۔ قدیم دور کی قلمی کتابیں، جنہیں مخطوطہ کہا جاتا ہے، کو ڈیجیٹل تصاویر کی صورت میں دنیا بھر کے محققین کے لئے دستیاب کر دیا گیا ہے۔ جامع ترمذی کے مختلف ادوار کے نسخوں کا اگر ایک دوسرے سے تقابل کیا جائے تو ان میں کوئی بہت بڑا فرق موجود نہیں ہے۔

          کسی کی کتاب میں اپنی طرف سے کچھ داخل کر دینے کا عمل صرف انہی کتابوں ہی میں ممکن ہے جو صرف چند افراد تک محدود تھیں مثلاً اہل تصوف کی کتابیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہم سے لے کر امام ترمذی تک تو کوئی شک کی گنجائش نہیں ہے۔

          اسی طرح سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مشہور صحابی ہیں۔ آپ کی دیانت داری اور حدیث کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت پر کوئی شک نہیں کر سکتا۔  ضرورت اصل میں امام ترمذی اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے درمیان موجود چار اشخاص کو تفصیل سے چیک کرنے کی ہے کیونکہ اگر کوئی گڑبڑ ہوسکتی ہے تو وہ ان ہی میں ہو سکتی ہے۔ اس چیکنگ کو محدثین "جرح و تعدیل"  کا نام دیتے ہیں۔

          اس عمل میں ان میں سے ہر شخص کے بارے میں یہ سوالات کئے جاتے ہیں کہ کیا ان کی شہرت ایک دیانت دار اور محتاط شخص کی ہے؟ کیا وہ اپنی نارمل زندگی میں ایک معقول انسان تھے؟ کہیں وہ لاابالی اور لاپرواہ سے آدمی تو نہیں تھے؟ کہیں وہ کسی ایسے سیاسی یا مذہبی گروہ سے تعلق تو نہیں رکھتے تھے جو اپنے عقائد و نظریات کو فروغ دینے کے لئے حدیثیں گھڑتا ہو؟ کہیں وہ کسی شخصیت کی عقیدت کے جوش میں اندھے تو نہیں ہوگئے تھے؟ عمر کے کسی حصے میں کہیں ان کی یادداشت تو کمزور نہیں ہوگئی تھی یا ان کی حدیث لکھنے والی ڈائری گم تو نہیں ہو گئی تھی؟ یہ صاحب حدیثوں کو لکھ لیتے تھے یا ویسے ہی یاد کر لیتے تھے؟ ان کے قریب جو لوگ تھے، اُن کی اِن کے بارے میں کیا رائے ہے؟  وہ کس شہر میں رہتے تھے؟ انہوں نے کس کس امام حدیث سے کس زمانے میں تعلیم حاصل کی؟ وہ کب پیدا ہوئے اور کب فوت ہوئے؟ ان کی کس کس محدث اور راوی سے ملاقات ثابت ہے؟

          اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہزاروں راویوں کے بارے میں یہ معلومات کہاں سے آئیں گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ فن رجال کے ماہرین نے اپنی پوری زندگیاں وقف کر کے ان تمام معلومات کا اہتمام کر دیا ہے۔ انہوں نے ان راویوں کے شہروں کا سفر کیا اور ان راویوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کیں۔ چونکہ یہ لوگ حدیث بیان کرنے کی وجہ سے اپنے اپنے شہروں میں مشہور افراد تھے، اس لئے ان کے بارے میں معلومات بھی نسبتاً آسانی سے مل گئیں۔ یہ تمام معلوما ت فن رجال کی کتابوں میں محفوظ کردی گئی ہیں۔ یہ کتب بھی عام شائع ہوتی ہیں اور کوئی بھی شخص انہیں حاصل کرسکتا ہے۔ اب تو انٹرنیٹ پر بھی یہ کتب بلامعاوضہ مہیا کر دی گئی ہیں۔ کوئی بھی شخص انہیں سرچ کر کے حاصل کر سکتا ہے۔

          ہمارے علم کے مطابق ان میں سے کسی کتاب کا اردو ترجمہ ابھی تک شائع نہیں ہوا کیونکہ ان کے استعمال کرنے والے سب لوگ عربی سے واقف ہی ہوتے ہیں۔چنانچہ ان کا مطالعہ کرنے کے لئے عربی زبان سے واقفیت ضروری ہے۔ حالیہ سالوں میں ایسے سافٹ ویئر بھی دستیاب ہو چکے ہیں جن میں کسی راوی کے نام پر کلک کرکے اس کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ اس کی ایک مثال اردن کے "دار التراث الاسلامی" کا تیار کردہ سافٹ وئیر ہے۔

          اس تحقیق کے نتیجے میں ہمیں اپنی زیر بحث حدیث کے تمام راویوں کے بارے میں یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ دیانت دار اور معقول لوگ تھے۔ ان کا تعلق کسی ایسے گروہ سے نہیں تھا جو حدیثیں گھڑنے کی شہرت رکھتا ہو۔ یہ محتاط اور اچھی شہرت کے حامل تھے۔ لوگوں کی ان کے بارے میں رائے اچھی تھی۔ یہ اچھی یادداشت رکھنے والے لوگ تھے اور حدیثوں کو محفوظ بھی کر لیتے تھے۔ اگر ان میں سے کسی ایک راوی کے بارے میں بھی ایسی معلومات ملتی ہیں جس سے وہ ناقابل اعتبار ثابت ہوتا ہے تو اس کی بیان کردہ تمام احادیث کو مسترد کر دیا جاتا ہے۔

          مسترد کرنے کا معنی یہ ہے کہ یہ طے کر لیا جائے کہ اس حدیث کو حضور  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے منسوب کرنا درست نہیں۔اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھا جاتاہے کہ ان راویوں کی آپس میں ملاقات بھی ہوئی ہے یا نہیں۔ فرض کیجئے کہ راوی اے کی پیدائش 200 ہجری میں ہوئی اور راوی بی کی وفات 190  ہجری میں ہوئی تو یہ بات کنفرم ہوگئی کہ ان دونوں کی ملاقات ممکن نہیں۔

          اسی طرح راوی سی اگر کوفہ میں رہتا تھا اور ساری عمر شہر سے باہر نہیں نکلا اور راوی ڈی دمشق میں رہتا تھا اور کبھی کسی سفر پر کوفہ نہیں گیا تب بھی یہ بات کنفرم ہو جاتی ہے کہ ان دونوں کی ملاقات نہیں ہوئی۔ ایسی صورتوں میں یہ طے کر لیا جاتا ہے کہ ان دو راویوں کے درمیان بھی کوئی راوی موجود ہے جس کا ذکر نہیں کیا گیا۔ یہ چیز بھی اس حدیث کی حیثیت کو کمزور کرتی ہے۔

          ایسا بھی ممکن ہے کہ کسی راوی کے بارے میں سرے سے معلومات ہی دستیاب نہ ہوں۔ اس صورتحال کے نتیجے میں بھی حدیث کمزور حیثیت اختیار کرجاتی ہے۔ اسی طرح ایک صحابی اگر کسی حدیث کو بیان کرتے ہوں اور کسی دوسری مستند روایت سے یہ ثابت ہو جائے کہ ان کا اپنا عمل اس حدیث کے خلاف تھا تو یہ چیز بھی حدیث کی حیثیت کو کمزور کرتی ہے کیونکہ صحابہ کرام کے بارے میں یہ گمان نہیں کیا جاسکتا کہ وہ حضور  صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے کسی ارشاد کو جاننے کے باوجود اس پر عمل نہ کریں۔ ایسا ضرور ہوسکتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے وہ حکم کسی خاص صورتحال کے پیش نظر دیا ہو جو ہر حال میں قابل عمل نہ ہو۔

          کمزور احادیث کو علم حدیث کی اصطلاح میں "حدیث ضعیف" کہا جاتا ہے۔ جبکہ درست سند کی احادیث کو "صحیح" اور "حسن" کا درجہ دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ محدثین نے حدیث کی بہت سی اقسام بیان کی ہیں جن کی تفصیل آگے اصل کتاب کے متن میں دیکھی جاسکتی ہے۔

          اس قدر تفصیلی چھان بین کے بعد حدیث کی سند کی تحقیق کا کام مکمل ہو جاتا ہے۔ اس حدیث کے بارے میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اس کی سند درست ہے۔ اس کے تمام راوی قابل اعتبار ہیں اور اس سند کی زنجیر میں کوئی کڑی غائب نہیں۔ تاہم یہ ایک فطری سی بات ہے کہ کوئی انسان خواہ کتنا ہی قابل اعتبار کیوں نہ ہو، بسا اوقات کسی بات کو سمجھنے اور بیان کرنے میں غلطی کر سکتا ہے۔ اسے غلط فہمی بھی لاحق ہوسکتی ہے، وہ بات کو یا اس کے کچھ حصے کو بھول بھی سکتا ہے، اس سے بیان کرنے میں غلطی بھی ہوسکتی ہے۔ اس قسم کی غلطیوں سے کسی بڑی شخصیت کے علم و فضل اور جلالت شان میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی کیونکہ اس قسم کی خطائیں ہر انسان کا خاصہ ہے۔

          ایسا بھی ممکن ہے کہ ایک شخص نے تو بات مکمل طور پر بیان کر دی ہو لیکن دوسرا اسے سمجھنے میں اور آگے منتقل کرنے میں غلطی کردے۔ سند جتنی طویل ہوتی جائے گی، اور حدیث کی کتاب مرتب کرنے والے اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے درمیان زنجیر کی کڑیاں بڑھتی جائیں گی تو اس قسم کی غلطیوں کا امکان بھی اتنا ہی بڑھتا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ محدثین ان احادیث کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں جن کی سند مختصر ہو بشرطیکہ وہ ثقہ (Reliable)   راویوں کے ذریعے منتقل ہوئی ہوں۔

           عام طور پر احادیث کی سند میں تین سے لے کر نو افراد تک موجود ہوتے ہیں۔ تین راویوں والی احادیث کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ موطاء امام مالک میں بہت سی ایسی احادیث موجود ہیں کیونکہ امام مالک علیہ الرحمۃ (م 179ھ) اور حضور  صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے درمیان زمانے کا فاصلہ زیادہ طویل نہ تھا۔ موطا میں بعض احادیث میں تو صرف دو راوی ہیں۔ ایسی بعض احادیث بخاری میں بھی موجود ہیں۔ امام بخاری اور حضور  صلی اللہ علیہ و الہ و سلم میں تقریباً دو سو سال کا فرق ہے چنانچہ انہیں تین کڑیوں والی احادیث بہت کم مل سکی ہیں۔یہ وہی احادیث ہیں جن کے راویوں نے طویل عمریں پائی ہوں گی۔

درایت کے اصول

سند کی درستگی کے باوجود ایک اور مسئلہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم راوی کو جن معلومات کی بنیاد پر پرکھ رہے ہیں، وہ بھی بہرحال انسانی کاوشوں کا نتیجہ ہیں اور ان میں بھی غلطی کا امکان (Error Margin)   موجود ہے۔ عین ممکن ہے کہ فن رجال کے کسی امام نے ایک صاحب کو ثقہ (قابل اعتماد) قرار دیا ہو لیکن وہ اپنی اصل زندگی میں انتہائی گمراہ کن آدمی ہو۔ ممکن ہے کہ اس نے اپنی ہوشیاری سے اپنی گمراہیوں اور کردار کی کمزوریوں پر پردہ ڈال رکھا ہو۔ انہی مسائل کی وجہ سے علمائے حدیث نے درایت کے اصول بھی وضع کئے ہیں۔ درایت کا معنی یہ ہے کہ سند کی درستگی کے باوجود حدیث کے متن یعنی اصل الفاظ کو بھی پرکھا جائے۔ اس کی تفصیل ضمیمہ میں بیان کر دی گئی ہے۔

          ان تمام فلٹرز سے گزر کر جو حدیث ہم تک پہنچے گی ، اس کے بارے میں ہم اطمینان سے کہہ سکتے ہیں کہ اس ذریعے سے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے ارشادات اور آپ کے افعال کے بارے میں جو معلومات ملی ہیں وہ قابل اطمینان حد تک درست ہیں اور ان میں درمیان کے واسطوں میں کوئی غلطی یا فراڈ نہیں ہوا۔ ہم جدید ریسرچ کی زبان میں کہہ سکتے ہیں یہ حدیث مثلاً1% Error Margin   یا 99% Confidence Level   کے تقاضوں کو پورا کر رہی ہے۔

سوالات

       اس سبق میں بیان کردہ حدیث کی چھان بین کے طریقوں کو نکات کی صورت میں بیان کیجیے۔

       روایت اور درایت کے اصولوں میں کیا فرق ہے؟

سبق 3: حدیث کی چھان بین اور تدوین پر جدید ذہن کے سوالات(1)

حدیث کو پرکھنے کے اس طویل طریق کار پر کچھ سوالات پیدا ہوسکتے ہیں۔

حدیث کی چھان بین کی ضرورت کیا ہے؟

ان میں سے پہلا سوال یہ ہے کہ اتنی چھان بین اور تفصیلی تحقیق کی ضرورت کیا ہے؟ ہمارے اہل علم اس معاملے میں اتنے زیادہ کنزرویٹو کیوں ہیں؟  اس کا جواب یہ ہے کہ اس دنیا کی چیزوں کے بارے میں ہمارا عام رویہ کچھ اس طرح کا ہوتا ہے کہ اگر ہم نے محض دو چار روپے کی کوئی چیز لینا ہوتی ہے تو ہم اس کے بارے میں زیادہ احتیاط نہیں کرتے۔ لیکن اگر ہمیں چند ہزار روپے کی چیز درکار ہو تو ہم خاصی احتیاط کا مظاہرہ کرتے ہیں ، دکاندار کی حیثیت کو اچھی طرح دیکھتے ہیں، کئی دکانداروں سے قیمت معلوم کرتے ہیں ، چیز کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں اور پھر اس پر بھی گارنٹی وغیرہ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اگر اس چیز کی قیمت کروڑوں روپے میں ہو تو پھر تو آخری درجے کی احتیاط سے کام لیا جاتا ہے ،  ملکی و بین الاقوامی قوانین کے تحت باقاعدہ قانونی معاہدے بھی کئے جاتے ہیں جس میں ہر پہلو کو تفصیل سے دیکھا جاتا ہے۔

          رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و الہ و سلم سے کسی بات کو منسوب کرنا ان سب چیزوں سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ کسی حدیث کو آپ سے غلط طور پر منسوب کرنے کے سنگین نتائج دنیا و آخرت میں نکل سکتے ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے دین کے نام پر بہت سی گمراہیاں پھیلائی گئی ہیں۔ بہت سے ایسے گمراہ کن فرقے پیدا ہوئے ہیں جو  قرآن اور سنت متواترہ کے قلعے میں تو کوئی نقب نہیں لگا سکے لیکن جعلی احادیث کے ذریعے انہوں نے بڑے اطمینان سے اپنے عقائد و نظریات کو زبردستی دین میں داخل کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امت کے جلیل القدر اہل علم نے اس سلسلے میں انتہا درجے کی احتیاط کا مظاہرہ کیا ہے۔

حدیث کی چھان بین کا طریقہ مشکل اور طویل کیوں ہے؟

دوسرا سوال یہ پیدا ہوسکتا ہے کہ اتنا طویل اور مشکل پروسس ہر شخص تو نہیں اپنا سکتا۔ ایک عام آدمی اس سلسلے میں کیا کرے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ امت کے جلیل القدر اہل علم احادیث کی چھان پھٹک (Evaluation) کا یہ کام پہلے ہی کر چکے ہیں۔ یہ اتنا فنی کام ہے کہ اسے اس کے ماہرین ہی سرانجام دے سکتے ہیں۔ جس طرح کسی بھی عام انسان کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ میڈیکل سائنس کے ماہرین سے صرف نظر کرکے وہ خود ہی دوسروں کا علاج کرنا شروع کردے اسی طرح اس فن کے بارے میں بھی یہی اصول ہے کہ اس کے سلسلے میں ماہرین ہی پر اعتماد کیا جائے۔ کسی حدیث کے صحیح ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں ان کے درمیان اختلاف کی صورت میں اسے قبول نہ کرنا احتیاط کے زیادہ قریب ہے۔

فن حدیث پیچیدہ کیوں ہے؟

ایک سوال یہ بھی پیدا ہوسکتا ہے کہ فن حدیث کو اتنا زیادہ پیچیدہ کیوں بنا دیا گیا ہے۔ کسی بھی فن سے ناواقف شخص کو اس کی اصطلاحات مشکل معلوم ہوتی ہیں۔ فزکس سے ناواقف شخص کے لئے ویو لینتھ اور فریکوئنسی نئی اصطلاحات ہوں گی، اسی طرح اکاؤنٹنگ سے نابلد شخص کے لئے ڈیبٹ اور کریڈٹ کا مفہوم ہی کچھ اور ہو گا۔ اس کتاب کا نام ہی "تیسیر مصطلح الحدیث" ہے جس کا معنی ہے مصطلح الحدیث کے علم کو آسان کرنا۔

          میں نے اس کتاب کے ترجمے میں بھی یہ کوشش کی ہے کہ قارئین تک فن حدیث کی اصطلاحات کو آسان اور جدید دور کی زبان میں پہنچا دیا جائے۔ امید ہے کہ اس کتاب کے مطالعے سے قارئین کے لئے یہ فن آسان ہو سکے گا۔

احادیث کو دیر سے کیوں مدون کیا گیا؟

حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے زمانے ہی سے لکھے جانے کا عمل شروع ہو چکا تھا۔ چونکہ اس دور میں نہ تو پرنٹنگ پریس ایجاد ہو سکا تھا اور نہ ہی کاغذ اتنا عام نہ تھا اس وجہ سے کتابیں عام طور پر ذاتی ڈائری کی حیثیت سے لکھی جاتی تھیں۔ بعد کے دور میں احادیث کو باقاعدہ تحریری صورت میں شائع کرنے کا اہتمام کیا گیا۔

          ہمارے پاس حدیث کی جو مستند کتابیں موجود ہیں ، انہیں حضور  صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی وفات کے تقریباً ڈیڑھ سو سے تین سو سال بعد کے عرصے میں لکھی گئیں۔ ان میں سب سے زیادہ قدیم موطا امام مالک ہے جو 120-179 ہجری کے درمیانی عرصے میں لکھی گئی ہے۔ اس سے پہلے بھی چند کتب کا تذکرہ ملتا ہے لیکن وہ موجودہ دور میں ناپید ہیں۔ حال ہی میں متعدد کتب کا سراغ مل گیا ہے اور کئی ایک شائع بھی ہو چکی ہیں جیسا کہ دور جدید کے جلیل القدر عالم ڈاکٹر حمید اللہ صاحب (م 2002ء) نے ہمام ابن منبہ رحمۃ اللہ علیہ، جو کہ ایک تابعی بزرگ تھے کے صحیفے کو شائع کیا ہے۔ اس صحیفے کی احادیث مسند احمد بن حنبل میں پہلے سے ہی موجود تھیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب اصل صحیفے اور مسند احمد کی احادیث کا تقابلی جائزہ لیا گیا تو ان میں کوئی فرق نہیں پایا گیا۔

           تاریخ اور قرائن سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ ان کتب کی احادیث بہرحال حدیث کی موجودہ کتب میں شامل ہوچکی ہیں۔ ہر علم و فن اپنے ارتقاء کے مختلف مراحل سے گزرتا ہوا اپنے عروج کو پہنچتا ہے۔ اس کے ایجاد ہوتے ہی وہ فورا ہی مرتب و مدون نہیں ہو جاتا۔

          اس کام میں اتنی تاخیر کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ پہلی صدی ہجری میں مسلمانوں کی زیادہ تر توجہ بیرونی فتوحات اور اندرونی بغاوتوں سے نمٹنے میں رہی۔ فتوحات کے نتیجے میں مسلمانوں کی حکومت اس وقت کی دنیا کے متمدن حصے کے تقریباً ستر فیصد علاقے پر قائم ہوگئی۔ اتنی بڑی سلطنت کا انتظام سنبھالنا اور مسائل کو حل کرنا ایک بہت مشکل کام تھا۔

          عرب چونکہ کسی سیاسی نظام کے عادی نہ تھے، اس لئے ان کے ہاں تفصیلی قانون سازی بھی نہ ہوسکی تھی۔ اس وقت یہ خطرہ لاحق ہو چکا تھا کہ اگر قرآن و سنت کی بنیاد پر ملک کے لئے کوئی قانون نہ بنایا گیا تو مجبوراً سلطنت روما کے قانون ہی کو اپنانا پڑ جائے گا۔ یہ بالکل ویسی ہی صورتحال تھی کہ آزادی ہند کے بعد پاکستان اور ہندوستان کے پاس کوئی آئین موجود نہ تھا جس کی وجہ سے ان دونوں ممالک کو انگریزوں کا آئین 1935ء نافذ کرنا پڑ گیا تھا۔

          ان حالات میں امت کے ذہین ترین طبقے کے سامنے سب سے بڑ اچیلنج یہ تھا کہ مملکت اسلامیہ کے لئے قرآن و سنت کی بنیاد پر قانون سازی کی جائے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی پوری توجہ قانون اور فقہ کی تدوین پر مرکوز ہوگئی۔

          دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ اس دور میں حدیث، فقہ اور دیگر فنون الگ بھی نہ ہوئے تھے چنانچہ اس دور کی کتب میں احادیث، اقوال صحابہ و تابعین، تفسیر، عدالتی فیصلے، ایمانیات و عقائد، زھد و تقویٰ، سیرت و تاریخ غرض ہر قسم کی روایات اور اقوال اکٹھے تھے۔

          دوسری اور تیسری صدی ہجری میں ان علوم و فنون کو الگ الگ کیا گیا جیسے حدیث و فقہ میں امام مالک کی موطا، سیرت میں ابن اسحاق کی کتاب، تفسیر میں سفیان ثوری کا مجموعہ، تاریخ میں ابن سعد اور ابن ابی خثیمہ کی کتب، فقہی مسائل میں امام محمد بن حسن، محمد بن ادریس شافعی اور اوزاعی کی کتب، ٹیکس کے نظام پر امام ابویوسف کی کتاب الخراج وغیرہ۔ اگر دقت نظر سے دیکھا جائے تو حدیث کی تدوین بھی ان علوم کے مقابلے میں زیادہ دیر سے وقوع پذیر نہ ہوئی تھی۔

          کسی بھی علم و فن کا ارتقاء اس کی ضرورت کی شدت سے پیدا ہوتا ہے۔ پہلی صدی کے اہل علم کے سامنے احادیث میں ملاوٹ کا کوئی بڑا چیلنج نہ تھا کیونکہ احادیث میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و الہ و سلم تک دو یا تین راوی ہوا کرتے تھے جو بالعموم اتنے مشہور ہوتے تھے کہ ان کے بارے میں کسی تحقیق و تفتیش کی ضرورت ہی نہ تھی۔ اگر اس دور میں احادیث کی تدوین کا کام بھی کر لیا جاتا تو یہ علم بہت حد تک سادہ رہتا اور تمام احادیث کو احسن انداز میں مدون کر لیا جاتا۔ احادیث گھڑنے کے فتنے کو زیادہ تر دوسری صدی میں عروج حاصل ہوا۔ چنانچہ دوسری صدی کے نصف آخر میں امت کے ذہین ترین افراد نے احادیث کی تدوین کی طرف توجہ دی اور ان کی تحقیق و تفتیش کرنے کو ہی اپنا بنیادی کام بنایا۔ تیسری صدی کے تقریباً نصف تک یہ کام بھی پایہ تکمیل کو پہنچ گیا۔

سوالات

       کسی قوم کے علوم کے ارتقاء کے عمل کو مختصر طور پر بیان کیجیے۔

       علوم حدیث کے تاریخی ارتقاء کے جو مراحل اوپر بیان ہوئے ہیں، انہیں نمبر وار نکات کی صورت میں بیان کیجیے۔

سبق 4: حدیث کی چھان بین اور تدوین پر جدید ذہن کے سوالات (2)

کہیں ہم صحیح احادیث کو رد تو نہیں کر رہے؟

ایک اور سوال یہ ہے کہ اتنے سخت معیار (Criteria) کے نتیجے میں جہاں ہم جعلی احادیث کو اصلی احادیث سے الگ کر رہے ہیں وہاں یہ بھی عین ممکن ہے کہ کچھ اصلی احادیث بھی ہمارے معیار کی سختی کی وجہ سے مسترد کر دی جائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسا بالکل ممکن ہے اور ایسی صورتحال سے کسی صورت میں بھی چھٹکارا ممکن نہیں ہے۔ بہت سی ایسی احادیث جنہیں ہمارے اہل علم کمزور اور ضعیف قرار دے چکے ہیں ، عین ممکن ہے کہ حقیقت میں بالکل اصلی اور صحیح احادیث ہوں۔ لیکن اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے غلط طور پر منسوب کرنے کا معاملہ اس سے سخت تر ہے کہ آپ کی کسی صحیح حدیث کو مسترد کر دیا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلی صورت میں اللہ تعالی کے سامنے ہمارے پاس کوئی عذر نہ ہو گا جبکہ دوسری صورت میں ہمارے پاس یہ عذر موجود ہو گا کہ حدیث ہم تک قابل اعتماد ذرائع سے نہیں پہنچی ہے۔

دین کو سمجھنے کے لئے حدیث کا کردار کیا ہے؟

  • حدیث قرآن مجید کو سمجھنے کا اہم ترین ذریعہ ہے۔ بہت سے لوگ حضور  صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے قرآن کے بارے میں سوالات کیا کرتے تھے اور آپ ان کے جوابات ارشاد فرماتے تھے۔ ان میں سے آپ کے جتنے ارشادات ہمیں صحیح احادیث کی صورت میں میسر آ سکے ہیں، وہ ہمارے لئے غنیمت ہیں اور ہم ان سے قرآن اور سنت متواترہ کی تفصیلی جزئیات (Minute Details)   کو سمجھنے میں مدد لے سکتے ہیں۔

  • رسول اللہ  صلی اللہ علیہ واٰلہ و سلم نے بھی اسی دین پر عمل فرمایا جو ہمارے لئے نازل کیا گیا۔ آپ کا یہی عمل ہمارے لئے اسوہ حسنہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ احادیث کی مدد سے ہم آپ کے اسوہ حسنہ تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔

  • حدیث حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی سیرت طیبہ اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تاریخ کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کا سب سے پاکیزہ اور مستند ذریعہ ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ایک ضعیف حدیث بھی عام تاریخی روایت سے زیادہ مستند ہوتی ہے کیونکہ عام تاریخی روایات میں راویوں کے نام اور حالات محفوظ کرنے کا کوئی انتظام نہیں کیا جاتا جبکہ احادیث میں لازماً ایسا ہوتا ہے، اگرچہ مسلمانوں کے محتاط مورخین نے تاریخ میں بھی سند و روایت کا اہتمام کیا ہے۔

  • بہت سی احادیث میں حضور اکرم  صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی ذاتی عادات و خصائل کا ذکر ہے۔ اگرچہ یہ دین کے احکام تو نہیں لیکن اہل محبت کے لئے اپنے پیارے رسول کی ہر ہر ادا سے واقفیت بہم پہنچانے کا بہترین ذریعہ ہیں۔

  • بہت سی احادیث مختلف مواقع پر، دینی معاملات سے ہٹ کر ، حضور  صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے ارشادات و افعال کا تذکرہ ہے۔ ظاہر ہے حضور  صلی اللہ علیہ و الہ و سلم ہمہ وقت دین ہی بیان نہ فرما رہے ہوتے تھے۔ ایسا بھی ہوتا تھا کہ آپ اپنے ازدواجی، معاشی اور معاشرتی معاملات بھی دیکھا کرتے تھے۔ کبھی کسی سے مزاح فرماتے، کہیں کسی سے اظہار تعزیت فرماتے، کبھی کوئی چیز خریدتے، کبھی قرض لیتے اور کبھی اسے ادا کرتے۔ ایسی احادیث میں ضروری نہیں کہ دین کا کوئی حکم ہی بیان ہوا ہو، لیکن دنیاوی معاملات میں آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کا اسوہ حسنہ ضرور مل جاتا ہے۔ اہل محبت کے لئے یہ بھی ایک عظیم خزانہ ہے۔

  • احادیث کا ایک بڑا حصہ حکمت و موعظت پر مبنی ارشادات، تزکیہ نفس ، عبادات کے فضائل، آخرت اور جنت و جہنم کی تفصیلات، مستقبل میں پیش آنے والے فتنوں اور اسی طرح کے معاملات سے متعلق ہے۔ یہ سب احادیث بھی ہمارے لئے حکمت و دانش اور معلومات کا قیمتی ذخیرہ ہیں۔ نصیحت حاصل کرنے اور برائیوں سے بچ کر اپنا تزکیہ نفس کرنے کے لئے یہ احادیث بہت مفید ہیں ۔

بعد کی صدیوں میں حدیث پر زیادہ کام کیوں نہیں کیا گیا؟

ایک سوال ہی بھی کیا جاتا ہے کہ بعد کی صدیوں میں حدیث پر زیادہ کام کیوں نہیں کیا جاسکا اور معاملہ صرف پڑھنے پڑھانے تک ہی محدود رہا۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ محدثین کی طرف سے ایک عظیم کام کی تکمیل کے بعد اس میں کسی اضافے کی ضرورت ہی نہ رہی تھی۔ فن رجال کے ائمہ نے، راویوں کے حالات بھی جہاں تک میسر آسکے ، تحریر کر دیے۔ محدثین کے گروہ نے مشہور کتب میں شامل احادیث کے بارے میں قبولیت اور عدم قبولیت کے فیصلے بھی کردیے۔

           اس کے بعد یہی کام باقی رہ جاتا تھا کہ ان احادیث کو دین کو سمجھنے میں استعمال کیا جائے اور اس کی بنیاد پر قانون سازی کی جائے۔ یہ کام بہت پہلے صحابہ کرام علیہم الرضوان کے دور ہی سے شروع ہوچکا تھا اگرچہ اس کا بڑا حصہ دوسری صدی کے وسط تک مکمل ہو گیا لیکن اس پر مزید کام ہوتا رہا اور یہ سلسلہ چوتھی صدی تک چلتا رہا۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ یہ سلسلہ چلتا رہتا کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ پیش آنے والے نئے مسائل کے بارے میں اجتہاد کی ضرورت تو قیامت تک پیش آتی رہے گی۔

          بعض فتنوں کے باعث چوتھی صدی کے اہل علم نے یہ اعلان کیا کہ اسلاف علم و تحقیق کا جو کام کرگئے ، وہ کافی ہے اور اب کسی اور اجتہاد کی ضرورت نہیں۔ ان کے اس اعلان کو مستقل طور پر سمجھ لیا گیا اور امت بحیثیت مجموعی علمی جمود کا شکار ہوگئی۔ المیہ یہ ہوا کہ یہ علمی جمود صرف علوم دینیہ تک ہی محدود نہ رہا بلکہ مسلمانوں کی سائنس اور ٹیکنالوجی بھی اس کا شکار ہوگئی۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد ایک ہزار سال تک امت مسلمہ میں ہر علم و فن میں ایسے بلند پایہ عالم بہت کم پیدا ہوئے جیسا کہ پہلی چار صدیوں میں ہوا کرتے تھے۔

          دوسری طرف اہل یورپ نے اجتہادی فکر کو بیدار کرکے سائنس و ٹیکنالوجی میں بے پناہ ترقی کی اور ہم پر چڑھ دوڑے۔ موجودہ دور میں اہل مغرب کے علمی و سیاسی چیلنج نے مسلم علماء کو اس بات پر مجبور کردیا ہے کہ وہ قرآن و سنت کی بنیاد پر از سر نو اپنے فقہی و قانونی ذخیرے کا جائزہ لیں اور عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق قانون سازی کریں۔ دینی و دنیاوی علوم میں تحقیق کا رجحان تقریباً پورے عالم اسلام میں جنم لے چکا ہے اور امت کا یہ علمی قافلہ آہستہ آہستہ علمی دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کی طرف چل پڑا ہے۔ امید کی جاسکتی ہے کہ انشاء اللہ پندرہویں صدی ہجری اور اکیسویں صدی عیسوی کے آخر تک امت مسلمہ علمی دنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام بہت حد تک حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔

سوالات

       مسلمانوں کی موجودہ علمی حالت پر تبصرہ کیجیے۔ ہمیں اپنے اندر علمی ذہن پیدا کرنے کے لئے کیا کرنا ضروری ہے۔

       حدیث کو سمجھنا کیوں ضروری ہے؟ کم از کم تین وجوہات بیان کیجیے۔

سبق 5: دور جدید میں حدیث کی خدمت کی کچھ نئی جہتیں

جہاں تک فن رجال کا تعلق ہے تو اس باب میں بہت زیادہ تحقیق و تفتیش کی گنجائش باقی نہیں رہی کیونکہ اس کی تدوین کا کام بالکل مکمل ہوچکا ہے البتہ احادیث کے طالب علم اسے سمجھنے اور سمجھانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور یہ انشاء اللہ قیامت تک جاری رہے گا۔

          ایسی احادیث جن کے بارے میں قدماء تحقیق نہیں کر سکے، ان کی تحقیق کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ دور جدید میں علامہ ناصر الدین البانی کی تحقیق اس کی ایک مثال ہے۔ تحقیق کے میدان میں شخصیت پرستی کی کوئی اہمیت نہیں ہوا کرتی۔ قدیم اور جدید اہل علم بھی انسان ہیں اور ان کے کام میں غلطی کا امکان بہرحال موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کے دور کے اہل علم قدیم اہل علم کے کام کا از سر نو جائزہ لیتے ہی رہتے ہیں تاکہ اس میں اگر کہیں کوئی غلطی رہ گئی ہے تو اس کی تلافی کی جا سکے۔

          فن حدیث کی خدمت کی دوسری جہت انفارمیشن ٹیکنالوجی میں حالیہ ترقی سے پیدا ہوئی ہے۔ دور قدیم سے احادیث کا ذخیرہ بہت سی کتابوں میں متفرق ہے جن کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ ان کتب کا کوئی اسٹینڈرڈ اشاریہ (Index) اب تک ترتیب نہیں دیا جاسکا جس کی مدد سے ایک موضوع پر موجود تمام احادیث کو سامنے رکھ کر ان سے استفادہ کیا جاسکے۔ مصر کے فواد عبدالباقی کا اشاریہ بہت محنت سے ترتیب دیا ہوا ہے لیکن اس سے استفادہ کرنے کے لئے انسان کو بہت زیادہ اوراق پلٹنا پڑتے ہیں اور ایک ایک حدیث کی تلاش میں گھنٹوں صرف ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح فن رجال کی کتب بھی مواد بہت زیادہ بکھرا ہوا ہے اور اس سے استفادہ کرنا خاصا مشکل کام ہے۔

          1990ء کے عشرے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ کے ساتھ علم حدیث کے ماہرین کے ذہن میں یہ خیال پیدا ہوا کہ احادیث کا ایک جامع ڈیٹا بیس بنایا جائے جس میں احادیث کی تمام کتب میں موجود تمام احادیث کو درج کرلیا جائے۔ ہر حدیث کے ساتھ اس کی فنی حیثیت پر بھی بحث فراہم کی جائے اور اس کے متعلق تمام ائمہ حدیث کی آرا کو بھی میسر کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ حدیث کے تمام راویوں سے متعلق معلومات اور ان کے متعلق فن رجال کے تمام ائمہ کی آرا بھی اکٹھی کی جائیں اور انہیں حدیث کی سند سے لنک کردیا جائے۔ کسی بھی نام پر کلک کرنے سے اس راوی کی مکمل تفصیلات سکرین پر ڈسپلے ہوجائیں۔ ان سب کے ساتھ ساتھ دور جدید کی ضروریات اور مسائل کے مطابق ایک تفصیلی انڈیکس تیار کیا جائے اور اس سے تمام احادیث کو لنک کردیا جائے۔

          جدید ترین "سرچ انجنز" کی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے  کسی بھی ایک موضوع پر کلک کرنے سے ان تمام احادیث کا ذخیرہ سامنے آجائے جن میں اس موضوع سے متعلق کسی بھی قسم کا مواد پایا جاتا ہو۔ اس کے بعد کسی بھی حدیث پر کلک کرنے سے اس کی تفصیلی سند ، متن اور اصل کتاب کا حوالہ سامنے آجائے۔ احادیث کے ساتھ قدیم و جدید علماء کی لکھی ہوئی شروح (Commentaries)   کو بھی اس میں شامل کرلیا جائے۔

          عرب دنیا میں پچھلے پچاس برس میں حدیث پر غیر معمولی کام ہوا ہے۔ حدیث سے متعلق ایسے کئی سافٹ وئیر وجود میں آ چکے ہیں۔ اردن کے دارالتراث الاسلامی کے موسوعۃ الحدیث، مکتبہ الفیۃ لسنۃ النبویۃ، اور مکتبہ شاملہ کے تیار کردہ سافٹ وئیر اس کی مثال ہیں۔ اسی طرح علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کی کتب پر مشتمل سافٹ ویئر بھی منظر عام پر آ چکا ہے جو انٹرنیٹ پر بلاقیمت دستیاب ہے۔

          یہ تمام سافٹ وئیر عربی زبان میں دستیاب ہیں کیونکہ انہیں علماء ہی استعمال کرتے ہیں جن کا عربی زبان سے واقف ہونا ضروری ہے۔ کم و بیش یہ تمام سافٹ وئیر انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں۔ ان میں سے بعض بلا معاوضہ اور بعض قیمت کی ادائیگی پر دستیاب ہیں۔

          ان سافٹ وئیر میں جو مزید بہتری لائی جا سکتی ہے، وہ یہ ہے کہ احادیث کے ساتھ ساتھ ان کی شروح کو بھی لنک کر دیا جائے تاکہ براؤزنگ کرنے میں زیادہ وقت صرف نہ ہو۔ اسی طرح کتب حدیث میں احادیث کے نمبرز کو مکمل طور پر اسٹینڈرڈائز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ تلاش میں دشواری نہ ہو۔

سوالات

       حدیث کا سافٹ ویئر کیسا ہونا چاہیے؟ اس میں کیا کیا فیچرز ہونا ضروری ہیں۔ اپنی تجاویز پیش کیجیے۔

       قدیم اہل علم نے احادیث پر جو تحقیق کی ہے، اس پر نظر ثانی کی ضرورت کیوں ہے؟

سبق 6: علوم حدیث کی اہم اور مشہور کتب

دور قدیم سے لے کر آج تک علوم حدیث میں بہت سی کتب لکھی گئی ہیں۔ ان میں سے بہت سی کتابوں کو عالمی شہرت حاصل ہوئی ہے۔ اصول حدیث کا فن علوم حدیث کی نہایت ہی اہم اور بنیادی شاخ ہے۔ ڈاکٹر محمود طحان نے اس کتاب کے مقدمے میں ان کتابوں کے نام ذکر کیے ہیں۔

       المحدث الفاصل بین الراوی و الواعی: یہ قاضی ابو محمد الحسن بن عبدالرحمٰن بن خلاد الرامھرمزی (م 360ھ) کی کتاب ہے اور اس کا شمار اصول حدیث کی اولین کتابوں میں کیا جاتا ہے۔ اس میں علوم حدیث کی تمام ابحاث موجود نہیں کیونکہ کسی بھی فن کی ابتدائی کتابوں میں تمام فنون کو شامل کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

       معرفۃ علوم الحدیث: یہ ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ الحاکم النیشاپوری (م 405ھ) کی تصنیف ہے۔ اس کتاب کو فنی اعتبار سے مناسب انداز میں ترتیب نہیں دیا گیا۔

       المستخرج علی معرفۃ العلوم الحدیث: اسے ابو نعیم احمد بن عبداللہ الاصبھانی (م 430ھ) نے تصنیف کیا۔ جن مباحث کو حاکم اپنی کتاب "معرفۃ العلوم الحدیث" میں درج نہ کر سکے تھے، اصبھانی نے انہیں اس کتاب میں درج کیا ہے لیکن پھر بھی کچھ مباحث باقی رہ گئے ہیں۔

       الکفایۃ فی علم الروایۃ: یہ مشہور مصنف ابوبکر احمد بن علی بن ثابت الخطیب البغدادی 463ھ) کی کتاب ہے۔ یہ کتاب اس فن کے اہم ترین مباحث کی جامع ہے اور اس میں روایت کے قواعد کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ یہ اصول حدیث کے فن کی بنیادی کتب میں شمار کی جاتی ہے۔

       الجامع الاخلاق الراوی و آداب السامع: یہ بھی خطیب بغدادی کی تصنیف ہے۔ جیسا کہ نام ہی سے ظاہر ہے، یہ کتاب روایت حدیث کے آداب پر مشتمل ہے۔ اپنی نوعیت کی یہ ایک منفرد کتاب ہے۔ فنون حدیث میں سے شاید ہی کوئی ایسا فن باقی رہ گیا ہو جس پر خطیب نے کوئی کتاب نہ لکھی ہو۔

       الالماع الی معرفۃ اصول الروایۃ و تقیید السماع: اس کتاب کے مصنف قاضی عیاض بن موسی الیحصبی (م 544ھ) ہیں۔ اس کتاب میں اصول حدیث کے تمام مباحث درج نہیں کیے گئے بلکہ اس میں صرف حدیث کو حاصل کر کے اپنے پاس محفوظ رکھنے (تحمل) اور پھر اسے آگے منتقل کرنے (اداء) کے طریق کار پر بحث کی گئی ہے۔ کتاب کی ترتیب نہایت ہی اعلی درجے کی ہے۔

       ما لا یسع المحدث جھلہ: یہ ابو حفص عمر بن عبدالمجید المیانجی (م 580ھ) کی کتاب ہے۔ یہ ایک چھوٹی سی جزوی کتاب ہے جو علوم حدیث کے طلباء کے لئے زیادہ فائدہ مند نہیں ہے۔

       علوم الحدیث: یہ کتاب ابو عمرو عثمان بن عبدالرحمٰن الشھرزوری (م 643ھ) کی تصنیف کردہ ہے۔ مصنف 'ابن صلاح' کے نام سے زیادہ مشہور ہیں اور یہ کتاب "مقدمہ ابن صلاح" کے نام سے معروف ہے۔ یہ علوم حدیث پر نفیس ترین کتاب ہے۔ مصنف نے اس میں خطیب بغدادی اور ان سے پہلے کے مصنفین کی کتابوں میں بکھرے ہوئے مواد کو اکٹھا کر دیا ہے۔ یہ کتاب بہت سے فوائد کی حامل ہے البتہ اسے مناسب انداز میں ترتیب نہیں دیا گیا۔

       التقریب و التیسیر لمعرفۃ السنن البشیر و النذیر: یہ محیی الدین یحیی بن شرف النووی (م 676ھ) کی کتاب ہے۔ یہ ابن صلاح کی "علوم الحدیث" کی تلخیص ہے۔ یہ کتاب نہایت ہی اہم سمجھی جاتی ہے۔

       تدریب الراوی فی شرح التقریب النواوی: یہ جلال الدین عبدالرحمٰن بن ابی بکر السیوطی (م 911ھ) کی تصنیف ہے اور امام نووی کی کتاب "التقریب" کی شرح (تشریح) پر مبنی ہے۔ اس میں مولف نے بہت سے نتائج بحث کو شامل کر دیا ہے۔

       نظم الدرر فی علم الاثر: اس کتاب کے مصنف زین الدین عبدالرحیم بن الحسین العراقی (م 806ھ) ہیں۔ یہ کتاب "الفیۃ العراقی" کے نام سے مشہور ہے۔ اس میں انہوں نے ابن صلاح کی کتاب "علوم الحدیث" کو منظم کر کے پیش کیا ہے اور اس میں مزید مباحث کا اضافہ کیا ہے۔ یہ ایک نہایت ہی مفید کتاب ہے اور اس کی متعدد شروح لکھی گئی ہیں۔ خود مصنف نے بھی اس کتاب کی دو شروحات لکھی ہیں۔

       فتح المغیث فی شرح الفیۃ الحدیث: یہ کتاب محمد بن عبد الرحمٰن السخاوی (م 902ھ) کی تصنیف ہے۔ یہ الفیۃ العراقی کی تشریح پر مبنی ہے اور اس کی سب سے عمدہ شرح سمجھی جاتی ہے۔

       نخبۃ الفکر فی مصطلح اھل الاثر: یہ حافظ ابن حجر عسقلانی (م 852ھ) کی مختصر کتاب ہے لیکن اپنے مباحث اور ترتیب کے اعتبار سے نہایت ہی عمدہ ہے۔ مصنف نے اس کتاب کو ایسے عمدہ انداز میں ترتیب دیا ہے جو اس سے پہلے کے مصنفین کے ہاں موجود نہیں ہے۔ مصنف نے خود اس کتاب کی شرح "نزھۃ النظر" کے نام سے لکھی ہے۔

       المنظومۃ البیقونیۃ: اس کتاب کے مصنف عمر بن محمد البیقونی (م 1080ھ) ہیں جنہوں نے ایک مختصر نظم کی صورت میں قواعد حدیث کو بیان کیا ہے۔ اس کے اشعار کی تعداد 34 سے زیادہ نہیں ہے لیکن اپنے اختصار کے باعث یہ بہت مشہور ہوئی۔ اس کی متعدد شروح لکھی جا چکی ہیں۔

       قواعد التحدیث: اس کتاب کے مصنف محمد جمال الدین قاسمی (م 1332ھ) ہیں۔ یہ بھی ایک مفید کتاب ہے۔

سوالات

       اگر آپ عربی زبان سے واقف ہیں تو اوپر بیان کردہ دستیاب کتابوں کو ڈاؤن لوڈ کر لیجیے اور ان میں سے ہر کتاب کے مشمولات کی ایک فہرست تیار کیجیے۔

سبق 7: علم المصطلح کی بنیادی تعریفات(1)

اس سبق میں ہم "تیسیر مصطلح الحدیث" میں بیان کردہ بنیادی تعریفات کے علاوہ کچھ اضافی تعریفات بھی پیش کر رہے ہیں جو مصنف نے اصل کتاب میں درج نہیں کی ہیں۔

علم المصطلح

وہ علم جس کے اصولوں اور قواعد و ضوابط کی بنیاد پر کسی حدیث کو قبول یا مسترد کرنے کے لئے اس کی سند اور متن کو جانچا اور پرکھا جاتا ہے۔

علم المصطلح کا موضوع

اس کا موضوع (حدیث کی) سند اور متن کا تجزیہ کرنا ہے تاکہ حدیث کو قبول یا مسترد کیا جا سکے۔

علم المصطلح کا مقصد

علم المصطلح کا مقصد صحیح اور کمزور احادیث کی پہچان کرنا ہے۔

حدیث

حدیث کا لغوی مفہوم "نئی بات" ہے۔ اس کی جمع "احادیث" ہے۔ اصطلاحی مفہوم میں حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے منسوب کسی قول، آپ کے کسی فعل، آپ کی عطا کردہ اجازت یا کسی کیفیت کو بیان کرنے کا نام حدیث ہے۔

روایت

حدیث کی روایت کا مطلب ہے کہ کوئی شخص، کسی اور سے حدیث سنے اور پھر اسے آگے دوسرے افراد کو منتقل کر دے۔ روایت زبانی بھی ہو سکتی ہے اور تحریری بھی۔

خبر

اس کا لغوی مفہوم تو کسی واقعے کو بیان کرنا ہے۔ اصطلاحی طور پر اس سے تین مفاہیم مراد لئے گئے ہیں۔

       "خبر" اور "حدیث" ہم معنی لفظ ہیں۔

       "حدیث" وہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے منسوب ہو اور "خبر" وہ ہے جو کسی اور سے منسوب ہو۔

       "خبر"، "حدیث" کی نسبت زیادہ عمومی نوعیت کی چیز ہے اور اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے علاوہ دیگر لوگوں کی خبریں بھی شامل ہیں۔ (یعنی ہر حدیث خبر ہے لیکن ہر خبر حدیث نہیں ہے۔)

اثر

اس کا لغوی مفہوم تو باقی بچ جانے والی چیز ہے۔ اصطلاحی مفاہیم میں دو آراء پائی جاتی ہیں:

       یہ حدیث کا مترادف ہے۔

       وہ خبریں جو صحابہ و تابعین سے منسوب ہوں۔

اسناد

اس کے بھی دو معنی ہیں:

       حدیث کی کڑیوں کو شمار کرنا

       کسی حدیث کے متن کو آگے پہنچانے والے افراد کی زنجیر۔ یہ مفہوم "سند" کے مترادف ہے۔

سند

اس کا لغوی مفہوم ہے "قابل اعتماد ہونا"۔ سند کے ذریعے کسی حدیث کا مستند ہونا معلوم کیا جاتا ہے اور اس پر اعتماد کیا جاتا ہے۔ اصطلاح میں یہ کسی حدیث کے متن کو آگے پہنچانے والے افراد کی زنجیر کا نام ہے۔

متن

اس کا لغوی معنی ہے "سخت اور زمین سے اٹھا ہوا" اور اصطلاحی مفہوم میں یہ حدیث کا وہ حصہ ہوتا ہے جس پر آ کر سند ختم ہو جاتی ہے۔ (یعنی اصل بات جو حدیث میں بیان کی گئی ہوتی ہے۔)

نوٹ: علم حدیث میں کسی بھی حدیث کے دو حصے مانے جاتے ہیں: ایک حصہ اس کی سند اور دوسرا متن۔ سندسے مراد وہ حصہ ہوتا ہے جس میں حدیث کی کتاب کو ترتیب دینے والے امامِ حدیث  (Compiler)   سے لے کر حضور  صلی اللہ علیہ و الہ و سلم تک کے تمام راویوں (حدیث بیان کرنے والے) کی مکمل یا نامکمل زنجیر (Chain of Narrators)   کی تفصیلات بیان کی جاتی ہیں۔ متن حدیث کا اصل حصہ ہوتا ہے جس میں رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کا کوئی ارشاد، آپ کا کوئی عمل یا آپ سے متعلق کوئی حالات بیان کئے گئے ہوتے ہیں۔اس بات کو سمجھنے کے لئے ہم ایک مثال سے وضاحت کرتے ہیں:

      فرض کیجئے حدیث کی کسی کتاب میں ہمیں یہ حدیث لکھی ہوئی ملتی ہے: سفیان بن عینیہ، زید بن علاقہ کے ذریعے جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا، "ہم نے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی اس بات پر بیعت کی کہ ہم ہر مسلمان کے خیر خواہ ہوں گے۔"

      اس حدیث میں ٹیڑھے حروف میں لکھا گیا حصہ " سفیان بن عینیہ، زید بن علاقہ کے ذریعے جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے" حدیث کی سند کہلاتا ہے اور انڈر لائن حروف میں لکھا گیا حصہ "ہم نے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی اس بات پر بیعت کی کہ ہم ہر مسلمان کے خیر خواہ ہوں گے۔" حدیث کا متن کہلاتا ہے۔

      حدیث کی ایک سند، اس کا ایک "طریق" کہلاتی ہے۔ اس کی جمع "طُرُق" ہے۔ بہت سی احادیث ہمیں متعدد طرق سے حاصل ہوتی ہیں۔

مُسنَد (نون پر زبر کے ساتھ)

لغوی مفہوم میں اس چیز کو مسند کہتے ہیں جس کی طرف کوئی چیز یا بات منسوب کی گئی ہو۔ اس کے اصطلاحی مفاہیم تین ہیں۔

       احادیث کی وہ کتاب جس میں احادیث کو روایت کرنے والے صحابہ کی ترتیب سے اکٹھا کیا گیا ہو۔

       وہ حدیث جس کی سند ملی ہوئی ہو۔

       یہ سند کا مترادف بھی ہے۔

مُسنِد (نون پر زیر کے ساتھ)

وہ شخص جو اپنی سند کے ساتھ حدیث روایت کرتا ہو، 'مُسنِد' کہلاتا ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اسے خود اس حدیث کا علم ہے یا وہ کسی اور شخص سے روایت کر رہا ہے۔

مُحدِّث

وہ شخص جو علم حدیث کی روایت اور درایت کا ماہر ہو۔ وہ کثیر تعداد میں روایات اور ان کے بیان کرنے والے راویوں کے بارے میں علم رکھتا ہو۔

نوٹ: حدیث کو پرکھنے کے معیار دو طرح کے ہیں۔ پہلی قسم کا معیار "روایت" کہلاتا ہے جس میں حدیث کی سند میں موجود راویوں کے بارے میں تحقیق کی جاتی ہے کہ وہ قابل اعتماد ہیں یا نہیں۔ دوسری قسم کا معیار "درایت" کہلاتا ہے جس میں حدیث کے متن کا قرآن مجید اور دیگر احادیث کی روشنی میں تجزیہ کر کے دیکھا جاتا ہے کہ کیا یہ بات واقعتاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمائی ہو گی؟ کیا یہ حدیث قرآن اور دیگر صحیح احادیث سے مطابقت رکھتی ہے؟

سوالات

       "مسنَد" اور "مسنِد" میں کیا فرق ہے؟

       سند اور متن میں فرق بیان کیجیے۔ ان میں سے ہر ایک کو پرکھنے کے طریقے کا نام کیا ہے؟

سبق 8: علم المصطلح کی بنیادی تعریفات(2)

حافظ

اکثر محدثین کے نزدیک "حافظ" اور "محدث" ہم معنی الفاظ ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ "حافظ" کا درجہ "محدث" سے بلند ہے کیونکہ اس کا علم اپنے طبقے کے دیگر افراد کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔

حاکم

بعض اہل علم کی رائے کے مطابق حاکم ایسا محدث ہوتا ہے جو تمام احادیث کا علم حاصل کر لے سوائے اس کے کہ کوئی چھوٹی موٹی بات رہ جائے۔

راوی

راوی اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی سے سن کر حدیث کو آگے بیان کرتا ہے۔

شیخ

کوئی راوی جس استاذ سے حدیث کو حاصل کرتا ہے، اس استاذ کو شیخ کہا جاتا ہے۔ استاذ کے استاذ کو شیخ الشیخ کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر بخاری کی یہ حدیث دیکھیے:

حدثنا قبيصة بن عقبة قال: حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن عبد الله بن مرة، عن مسروق، عن عبد الله بن عمرو: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: أربع من كن فيه كان منافقا خالصا، ومن كانت فيه خصلة منهن كانت فيه خصلة من النفاق حتى يدعها: إذا اؤتمن خان، وإذا حدث كذب، وإذا عاهد غدر، وإذا خاصم فجر۔ تابعه شعبة عن الأعمش۔ (بخاری، حدیث 34)

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص میں یہ چار خصوصیات ہوں، وہ خالص منافق ہے اور جس میں کوئی ایک خصلت ہو، تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے جب تک کہ یہ اس میں موجود رہے: جب اس کے سپرد کوئی امانت کی جائے تو وہ خیانت کرے، جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو اسے توڑ دے اور جب لڑائی جھگڑا کرے تو اس میں گالی گلوچ پر اتر آئے۔

اس حدیث کو امام بخاری نے اپنی مشہور زمانہ کتاب "الجامع الصحیح" میں نقل کیا ہے۔ امام بخاری کے شیخ قبیصہ بن عقبہ ہیں، قبیصہ کے شیخ سفیان ہیں، سفیان کے شیخ اعمش ہیں، اعمش کے شیخ عبداللہ بن مرۃ ہیں جن کے شیخ مشہور تابعی مسروق ہیں۔ مسروق اس حدیث کو صحابی رسول سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے سن کر آگے بیان کر رہے ہیں۔

صحت و ضعف

قابل اعتماد حدیث کو صحیح کہا جاتا ہے جبکہ ناقابل اعتماد حدیث کو ضعیف کہا جاتا ہے۔ ان دونوں کی مزید اصطلاحی بحث آگے کتاب کے متن میں آ رہی ہے۔ حدیث کے صحیح ہونے کو اس کی "صحت" اور ضعیف ہونے کو اس کا "ضعف" کہا جاتا ہے۔ یہاں صحت سے مراد جسمانی صحت نہیں ہے بلکہ اس کا معنی ہے صحیح ہونا۔

موضوع

اپنی طرف سے حدیث ایجاد کر کے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے منسوب کرنے کو "وضع حدیث" کہا جاتا ہے۔ ایسی گھڑی ہوئی حدیث "موضوع حدیث" کہلاتی ہے۔ یہاں موضوع سے مراد 'ٹاپک' نہیں ہے بلکہ اس کا معنی ہے وضع کی گئی حدیث۔

متصل اور منقطع روایت

متصل روایت اس روایت کو کہا جاتا ہے جس کا سلسلہ سند شروع سے لے کر آخر تک ملا ہوا ہو اور اس میں کوئی سند کی کوئی کڑی بھی غائب نہ ہو۔ منقطع ایسی روایت کو کہتے ہیں جس کی سند ایک یا ایک سے زائد مقام سے ٹوٹی ہوئی ہو یعنی سند کی کوئی کڑی غائب ہو۔

ضبط

ضبط کا معنی ہے حدیث کو محفوظ رکھنا۔ حدیث کو یادداشت کے سہارے محفوظ بھی رکھا جا سکتا ہے اور لکھ کر بھی۔ قدیم عرب غیر معمولی حافظے کے مالک ہو کرتے تھے۔ یہ لوگ سینکڑوں اشعار پر مشتمل قصیدوں کو ایک بار سن کر ہی ترتیب سے یاد کر لیا کرتے تھے۔ اسلام قبول کرنے کے بعد ان کی یہ صلاحیت قرآن اور حدیث کو محفوظ رکھنے کے لئے استعمال ہوئی۔ اس کے ساتھ ساتھ بہت سے افراد نے ذاتی ڈائریوں کی صورت میں بھی حدیث کو محفوظ کر رکھا تھا۔

تابعین اور تبع تابعین

تابعین، صحابہ کرام سے اگلی نسل کا نام ہے۔ یہ وہ حضرات ہیں جنہوں نے صحابہ کرام سے دین کی تربیت حاصل کی۔ تابعین کا دور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی وفات (11ھ) کے بعد سے لے کر 150-160ھ کے لگ بھگ تک چلا ہے۔ تابعین کے بعد اگلی نسل کو تبع تابعین کا کہا جاتا ہے۔ ان کا دور آخری صحابی کی وفات (100ھ) کے بعد سے لے کر کم و بیش 250ھ تک چلا ہے۔

شرح

حدیث کی تشریح پر مبنی کتاب کو "شرح" کہا جاتا ہے۔ یہ لفظ حدیث کے علاوہ دیگر علوم جیسے فقہ وغیرہ کی کسی کتاب کی تشریح پر مبنی کتاب کے لئے بھی بولا جاتا ہے۔ قرآن مجید کی تشریح پر مبنی کتاب کے لئے ایک مخصوص نام "تفسیر" مقرر کیا گیا ہے۔

عربوں کے نام

قدیم عربوں کے ہاں طویل ناموں کا رواج رہا ہے۔ ان کے نام کے مختلف حصے ہوتے ہیں جن میں کنیت، اصل نام، والد کا نام، دادا کا نام، لقب، نسبت سب کچھ شامل ہے۔ مثال کے طور پر " ابوبکر احمد بن علی بن ثابت الخطیب البغدادی" کے نام میں 'ابوبکر' کنیت ہے، 'احمد' ان کا اپنا نام ہے، 'علی' ان کے والد کا نام ہے، 'ثابت' ان کے دادا کا نام ہے، 'خطیب' ان کا لقب ہے اور 'بغدادی' شہر بغداد کی طرف ان کی نسبت ہے۔ نسبت شہر کے علاوہ قبیلے، پیشے یا کسی اور چیز سے بھی ہو سکتی ہے۔

          طویل ناموں کا فائدہ یہ ہوتا تھا کہ مختلف افراد میں فرق کیا جا سکتا ہے۔ ایک ہی نام کے بہت سے افراد ہو سکتے ہیں لیکن اتنے طویل نام کا ایک ہی شخص ہونا تقریباً ناممکن ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ابن حجر نام کے دو علماء مشہور ہیں لیکن ان کی نسبت سے ان میں فرق کیا جا سکتا ہے، ایک ابن حجر عسقلانی اور دوسرے ابن حجر مکی۔

          طویل نام کو مختصر کر کے بولا جاتا ہے۔ ایک شخص اپنے نام کے کسی ایک حصے سے مشہور ہو جاتا ہے اور پھر اس کا تذکرہ نام کے اسی حصے سے کیا جانے لگتا ہے۔ مثلاً خطیب بغدادی اپنے لقب اور نسبت سے زیادہ مشہور ہیں۔

سن وفات

حدیث کی کتب میں اکثر اوقات مصنفین اور راویوں کا سن وفات بھی درج کیا جاتا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ کتاب کی تصنیف کے وقت کا اندازہ لگایا جا سکے۔ قدیم دور میں عام طور پر کتاب پر تاریخ تصنیف درج کرنے کا رواج نہ تھا۔ راویوں کا سن وفات بہت اہم ہے کیونکہ اسی سے ان کی روایت کے درست اور متصل ہونے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

حدیث کے کتاب کے مصنف کی شرائط (Criteria)

احادیث کی کتب کے مصنفین اکثر کچھ شرائط متعین کر کے اپنی کتاب میں احادیث درج کیا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر امام بخاری علیہ الرحمۃ نے یہ شرط مقرر کی کہ میں اپنی کتاب میں صرف اور صرف صحیح احادیث اکٹھی کروں گا۔ اسی طرح امام احمد بن حنبل علیہ الرحمۃ نے یہ شرط مقرر نہیں کی کہ ان کی کتاب میں صرف صحیح احادیث ہی اکٹھی کی جائیں گی لیکن ان کی شرط یہ تھی کہ وہ کسی بھی صحابی سے منقول ہر طرح کی روایت کو اکٹھا کر دیں گے۔ کسی بھی مصنف کی کتاب پر علمی تنقید کرنے کے لئے ان کی شرائط کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

تخریج

علوم حدیث کی اصطلاح کے مطابق حدیث کے ذخیرے میں سے کسی مخصوص حدیث کو تلاش کر کےاسے کتاب میں درج کرنے کے عمل کو تخریج کہا جاتا ہے۔ اس کے لئے عام طور پر یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے، "اخرجہ بخاری" یعنی "امام بخاری نے اس حدیث کی تخریج کرنے کے بعد اسے اپنی کتاب میں درج کیا۔"

شیخین اور صحیحین

علوم حدیث میں شیخین سے مراد امام بخاری اور امام مسلم ہوا کرتے ہیں۔ ان دونوں کی تصنیف کردہ کتابوں کو کتب حدیث میں اہم ترین مقام حاصل ہے۔ چونکہ ان دونوں کتابوں کے نام میں لفظ "الصحیح" ہے اس وجہ سے انہیں صحیحین کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ کہا جاتا ہے، "اس حدیث کو شیخین نے صحیحین میں درج کیا۔"

سوالات

       تخریج کی تعریف بیان کیجیے۔

       مصنف کے نام اور سن وفات کی اہمیت بیان کیجیے۔

سبق 9: کتب حدیث کا ایک تعارف

حدیث کے دستیاب ذخیرے میں موجود کتب کی تصنیف کا زمانہ دوسری صدی ہجری یا آٹھویں صدی عیسوی سے شروع ہوتا ہے۔ کتب حدیث کی متعدد اقسام ہیں جن کی تفصیل یہ ہے:

صحیح احادیث پر مشتمل کتب

یہ وہ کتابیں ہیں جن کے مصنفین نے اس بات کا اہتمام کرنے کی کوشش کی ہے کہ اپنی کتب میں صرف اور صرف صحیح احادیث درج کریں۔ ان میں صحیح بخاری، صحیح مسلم، صحیح ابن خزیمہ، صحیح ابن حبان اور مستدرک حاکم شامل ہیں۔ بعد کے محدثین نے ان کتابوں کی احادیث کا دوبارہ جائزہ لے کر یہ متعین کرنے کی کوشش کی ہے کہ کیا ان کتابوں کے مصنفین اپنی شرط کو پورا کرنے میں کامیاب بھی ہوئے ہیں؟

          اس تحقیق کے مطابق صرف اور بخاری اور مسلم ایسی کتب ہیں جن کی احادیث کم از کم سند کے اعتبار سے صحت کے اعلی ترین معیار پر پورا اترتی ہیں۔ باقی مصنفین نے اگرچہ کوشش تو بہت کی ہے مگر ان کی کتب میں بعض ضعیف احادیث بھی درج ہو گئی ہیں۔ اگرچہ بخاری اور مسلم کی صرف چند روایات پر متن اور درایت کے اعتبار سے تنقید کی گئی ہے مگر ان کی اسناد کے معاملے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔

احکام کی احادیث پر مشتمل کتب

یہ وہ کتب ہیں جن میں مصنفین نے یہ کوشش کی ہے کہ صرف دین کے احکام سے متعلق احادیث اکٹھی کی جائیں۔ ان کتب کو فقہ کی کتب کے ابواب پر احادیث کو مرتب کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر ان میں کتاب الصلوۃ، کتاب الزکوۃ، کتاب الصوم، کتاب الحج، کتاب البیوع، کتاب الامارۃ وغیرہ کے تحت احادیث لائی جاتی ہیں۔

          ان میں قدیم کتب کو "موطاء" کہا جاتا ہے۔ اس کی مثالیں امام مالک اور امام محمد بن حسن شیبانی کی موطاء ہیں۔ بعد کے ادوار میں ان کتب کو "سنن" کا نام دے دیا گیا۔ موطاء امام مالک کی احادیث بھی بعد کی چھان بین کے بعد سند کے اعتبار سے "صحیح" کے درجے پر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موطاء امام مالک کو صحیح بخاری و مسلم کی ہم پلہ کتاب سمجھا جاتا ہے۔

          سنن کی مثالوں میں سنن ترمذی، ابو داؤد، ابن ماجہ اور نسائی ہیں۔ یہ چاروں کتب مشہور و معروف ہیں اور دینی مدارس کے نصاب میں داخل ہیں۔ انہیں "سنن اربعہ" کہا جاتا ہے۔ ان کتب میں صحیح کے ساتھ ساتھ ضعیف احادیث بھی پائی جاتی ہیں۔ سنن کی دیگر کتابوں میں بیہقی، دارقطنی، اور دارمی کی سنن شامل ہیں۔ ان میں سے بعض مصنفین جیسے امام نسائی اور امام بیہقی نے سنن کی تین تین مختلف سائز کی کتابیں لکھی ہیں۔ ان میں کبری، وسطی اور صغری شامل ہیں۔ مثال کے طور پر "سنن نسائی الکبری" میں مصنف نے بہت زیادہ احادیث جمع کی ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے اس کا اختصار کر کے "وسطی" تیار کی اور پھر مزید اختصار کر کے "صغری" تصنیف کی ہے۔

راوی صحابی کی ترتیب پر مشتمل کتابیں

ان کتابوں کو "مسند" کہا جاتا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ مشہور مسند احمد بن حنبل ہے۔ ان کتابوں کے مصنفین نے ہر صحابی سے روایت کردہ احادیث کو ایک جگہ جمع کر دیا ہے۔ اس طریقے سے ان کی کتابوں کے ابواب صحابہ کے نام پر ہیں۔ قدیم ترین مسانید میں ابو عوانہ، ابو داؤد طیالسی، علی بن جعد، بزار، حمیدی، ابن مبارک، ابن راہویہ، شافعی، سراج، سعید بن منصور، اور سفیان بن عینیہ کی مسانید شامل ہیں۔

اساتذہ کی ترتیب پر مشتمل کتابیں

بعض مصنفین نے احادیث کی کتب کو اپنے اساتذہ کے ناموں پر مشتمل ابواب میں تقسیم کیا ہے۔ انہوں نے جس جس استاذ سے احادیث حاصل کیں، انہی کے نام سے باب قائم کر کے اپنا مجموعہ تیار کیا۔ ان کتابوں کی "معجم" کہا جاتا ہے۔ ان میں طبرانی کی معجم کبیر، اوسط اور صغیر مشہور ہیں۔ ابن عساکر کی معجم نے بھی تاریخ میں شہرت پائی ہے۔

احادیث و آثار پر مشتمل کتابیں

یہ ایسی کتب ہیں جن میں مصنفین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی احادیث کے ساتھ ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے قول و فعل، واقعات اور عدالتی فیصلوں کو بھی اکٹھا کر دیا ہے۔ ان کتابوں میں مصنف ابن ابی شیبہ، مصنف عبدالرزاق اور بیہقی کی معرفۃ السنن و الآثار شامل ہیں۔

جامع کتب

"جامع" ایسی کتاب کو کہا جاتا ہے جس میں مصنف نے ہر ممکن موضوع سے متعلق احادیث اکٹھی کی ہوں۔ بخاری اور مسلم کی "الجامع الصحیح" جامع کتب کی بہترین مثال ہیں۔ ان کے علاوہ جامع ترمذی بھی صحاح ستہ میں شامل ہے۔ ترمذی کی کتاب کو بعض حضرات نے 'جامع' اور بعض نے 'سنن' میں شمار کیا ہے۔ ابن الاثیر کی جامع الاصول بھی اسی اصول پر لکھی گئی ہے۔ جلال الدین سیوطی نے جمع الجوامع کے نام سے تمام دستیاب احادیث کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی ہے جو بڑی حد تک کامیاب رہی ہے۔

اجزا

بعض حضرات نے کسی خاص موضوع پر احادیث اکٹھی کی ہیں۔ ایسے مجموعوں کو "جزء" کہا جاتا ہے۔ امام بخاری کی "الادب المفرد" اس کی مثال ہے جو خاص طور پر آداب معاشرت سے متعلق ہے۔

سیرت

سیرت کی کتابوں کا موضوع رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سوانح حیات (Biography) لکھنا ہے۔ ان میں قدیم ترین کتاب سیرت ابن اسحاق ہے۔ اس کے بعد سیرت ابن ہشام کا نمبر آتا ہے۔ اس کے بعد کثیر تعداد میں سیرت پر کتابیں لکھی جا چکی ہیں جن میں ابن جوزی کی جلاء الفہوم، ابن کثیر کی السیرۃ النبویہ اور ابن حزم کی جوامع السیرۃ نے زیادہ شہرت پائی۔ اردو اور انگریزی میں بھی سیرت پر بہت سی کتب لکھی جا چکی ہیں۔ ان کتابوں میں صحیح و ضعیف ہر قسم کی روایات پائی جاتی ہیں جس کی وجہ سے یہ ضروری ہوتا ہے کہ ان کی چھان بین کر کے ان پر اعتماد کیا جائے۔ اعتماد کے لحاظ سے سیرت کی کتب کا درجہ حدیث کی کتب سے کم سمجھا جاتا ہے۔

تاریخ

تاریخ میں طبری کی تاریخ الامم و الملوک، بعد کی تمام کتابوں کا ماخذ ہے۔ اس میں تاریخ سے متعلق ہر طرح کی روایات اکٹھی کر دی گئی ہیں۔ ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے متعلق روایات بھی شامل ہیں۔ بعد میں ابن خلدون کی تاریخ کو عالمی شہرت حاصل ہوئی۔ اعتماد کے لحاظ سے تاریخ کی کتب کا درجہ سیرت کی کتب سے بھی کم سمجھا جاتا ہے۔

          ان تمام اقسام پر مشتمل کتابیں عربی زبان میں شائع ہو چکی ہیں۔ عربی میں یہ کتب انٹرنیٹ پر بلامعاوضہ دستیاب بھی ہو چکی ہیں۔ ان میں سے صرف چند کتب کے اردو اور انگریزی ترجمے ہو چکے ہیں۔ ان میں سے خاص طور پر بخاری اور مسلم کے ترجمے انٹرنیٹ پر دستیاب ہیں۔ بخاری و مسلم کے علاوہ تمام کتب حدیث میں صحیح و ضعیف ہر قسم کی روایات پائی جاتی ہیں۔ سیرت و تاریخ کی کتب کا معاملہ مزید احتیاط کا تقاضہ کرتا ہے۔

          ان کے علاوہ بھی احادیث سے متعلق کتب کی چند اقسام ہیں۔ انہیں ہم انشاء اللہ یونٹ 9 میں بیان کریں گے۔

اسائنمنٹ

       اوپر بیان کردہ کتب حدیث کی ایک فہرست تیار کیجیے۔ اس فہرست میں شامل ہر کتاب کو انٹرنیٹ پر تلاش کیجیے۔ ہر کتاب کے عربی متن کے علاوہ اس کے انگریزی اور اردو ترجموں کو تلاش کر کے اپنی حدیث لائبریری مکمل کیجیے۔

سبق 10: مشہور محدثین کا تعارف

محدثین کی تعداد تو بلامبالغہ لاکھوں میں ہے لیکن ان میں سے بعض حضرات ایسے ہیں جنہوں نے اس فن میں اہم ترین کارنامے سرانجام دیے ہیں۔ چونکہ اس کتاب میں بار بار ان کا ذکر آئے گا، اس لئے ضروری ہے کہ ان کا مختصر تعارف پیش کر دیا جائے۔ یہاں ہم تمام ائمہ کا ذکر نہیں کر رہے بلکہ صرف انہی کا تذکرہ کر رہے ہیں جن کے کام کا حوالہ اس کتاب میں بار بار دیا گیا ہے۔ رحمۃ اللہ علیہم اجمعین

ابوحنیفہ نعمان بن ثابت (80-150H/699-767CE)

آپ فقہ کے مشہور امام ہیں۔ آپ کا اصل میدان قرآن اور حدیث کی بنیاد پر عملی زندگی کا لائحہ عمل تیار کرنا تھا۔ کوفہ سے تعلق رکھتے تھے۔ صحابی رسول سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ملاقات کے باعث آپ کا شمار تابعین میں ہوتا ہے۔ بہت بڑے تاجر بھی تھے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگرد کے شاگرد حماد سے تعلیم حاصل کی۔ آپ کے شاگردوں میں ابویوسف اور محمد بن حسن شیبانی کو شہرت نصیب ہوئی۔ آپ کا فقہی مسلک پورے عالم اسلام میں پھیلا ہوا ہے۔

مالک بن انس (93-179H/712-795CE)

 مدینہ کے مشہور امام ہیں۔ حدیث اور فقہ کے ماہر تھے۔ موطاء کے مصنف ہیں جو حدیث اور فقہ کی قدیم ترین کتاب سمجھی جاتی ہے۔ آپ کو بھی بادشاہ کے نقطہ نظر سے اختلاف کرنے کے باعث تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔

عبداللہ بن مبارک (118-181H/736-797CE)

حدیث اور فقہ کے مشہور امام ہیں۔ آپ نے اخلاقیات، تزکیہ نفس، جہاد اور تعمیر شخصیت سے متعلق کئی کتب لکھیں۔

سفیان بن عینیہ (107-198H/725-814CE)

کوفہ کے رہنے والے تھے مگر مکہ میں مقیم رہے۔ آپ کا شمار اہل حجاز کے بڑے علماء میں ہوتا ہے۔ امام شافعی آپ کا تقابل امام مالک سے کیا کرتے تھے۔

محمد بن ادریس شافعی (150-204H/767-820CE)

حدیث اور فقہ کے مشہور امام ہیں۔ آپ کا تعلق فلسطین سے تھا۔ مکہ میں بچپن گزارا۔ مالک بن انس اور سفیان بن عینیہ کے شاگرد ہوئے۔ بغداد اور یمن میں وقت گزارا۔ آخر عمر میں سرکاری ملازمت سے استعفی دے کر مصر میں مقیم ہوئے اور قاہرہ میں وفات پائی۔

یحیی بن معین (159-233H/775-848CE)

جرح و تعدیل یعنی راویوں کو قابل اعتماد قرار دینے یا نہ دینے کے فن کے امام ہیں۔ بغداد کے رہنے والے تھے۔ جرح و تعدیل کے علاوہ احادیث کے جامع بھی تھے۔

احمد بن حنبل (164-241H/780-855CE)

آپ حدیث اور فقہ کے مشہور امام ہیں۔ آپ کا تعلق عراق کے دارالحکومت بغداد سے تھا۔ امام شافعی کے شاگرد ہوئے۔ اپنی جرات کے باعث بادشاہ متوکل نے انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنوایا۔ آپ کے شاگردوں میں بخاری و مسلم شامل تھے۔

محمد بن اسماعیل بخاری  (194-256H/810-870CE)

آپ فن حدیث کے مشہور ترین امام ہیں اور اپنی کتاب صحیح بخاری کے لئے مشہور ہیں۔ ازبکستان کے شہر بخارا میں پیدا ہوئے۔ بہت سے شہروں سے احادیث اکٹھی کیں۔ صحیح کے علاوہ آپ نے فن رجال، تاریخ اور اخلاقیات سے متعلق کتابیں تصنیف کیں۔ معاصر علماء کے تعصب کے باعث آپ کو بخارا سے نکلنا پڑا۔ سمرقند میں آپ کی وفات ہوئی۔

مسلم بن حجاج (204-261H/820-875H)

آپ کا تعلق ازبکستان کے شہر نیشا پور سے تھا۔ اپنے زمانے کے مشہور ترین محدثین سے احادیث حاصل کیں جن میں احمد بن حنبل اور بخاری جیسے محدثین شامل تھے۔ آپ "صحیح مسلم" کے مصنف ہیں جو صحیح بخاری کے بعد حدیث کا اعلی ترین مجموعہ ہے۔

ابو عیسی ترمذی (209-279H/824-892CE)

آپ حدیث کی مشہور کتاب جامع ترمذی کے مصنف ہیں۔ ازبکستان کے شہر ترمذ سے تعلق رکھتے تھے۔

ابن ابی حاتم رازی (240-327H/854-938CE)

جرح و تعدیل کے مشہور امام ہیں۔ ایران کے شہر رے سے تعلق رکھتے تھے۔ بہت سی کتابوں کے مصنف ہیں۔

احمد بن حسین البیہقی (384-458H/994-1066CE)

حدیث کے ائمہ میں سے تھے۔ آپ کا سب سے بڑا کارنامہ "سنن الکبری" ہے جو احکام سے متعلق احادیث کے سب سے بڑے مجموعوں میں سے ایک ہے۔ آپ کا تعلق ازبکستان کے علاقے نیشا پور سے تھا۔ اس کے بعد بغداد، کوفہ اور مکہ میں بھی رہے۔

خطیب بغدادی (392-463H/1002-1071CE)

آپ علوم حدیث کو مرتب کرنے والوں میں نہایت ہی اہمیت کے حامل ہیں۔ آپ کا تعلق کوفہ کے قریب ایک گاؤں سے تھا۔ عالم اسلام کے مختلف شہروں میں علم کی تلاش میں نکلے۔ آخر میں بغداد میں رہائش اختیار کی۔ علوم حدیث میں آپ کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔

ابن عبدالبر (368-464H/978-1071CE)

آپ کا تعلق اسپین میں قرطبہ سے تھا۔ اسماء الرجال، حدیث اور فقہ کے امام تھے۔ موطاء مالک کی بہت بڑی شرح کے مصنف ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سوانح حیات پر لکھی گئی "الاستیعاب" کے مصنف بھی آپ ہی ہیں۔

عبد الغنی المقدسی (541-600H/1146-1203CE)

آپ کا تعلق دمشق سے ہے۔ بعد میں مصر کے شہر اسکندریہ اور ایران کے شہر اصفہان میں مقیم رہے۔ حدیث کی چھ مشہور کتابوں کے رجال پر آپ نے تحقیق کر کے ایک ضخیم کتاب "الاکمال" تصنیف کی ہے۔

ابن الاثیر (555-630H/1160-1230CE)

عراق کے شہر موصل میں مقیم رہے۔ علوم الحدیث میں انہوں نے غیر معمولی اضافے کئے ہیں جن میں اسماء الرجال پر غیر معمولی کام شامل ہے۔ آپ کو شہرت صحابہ کرام کی زندگیوں پر لکھی گئی کتاب 'اسد الغابہ" سے حاصل ہوئی۔

جلال الدین سیوطی (849-911H/1445-1505CE)

سینکڑوں کتابوں کے مصنف ہیں۔ مصر کے شہر اسیوط میں پیدا ہوئے۔ آپ نے حدیث کی دستیاب تمام کتابوں کو اکٹھا کر کے جامع الکبیر تیار کی۔علوم القرآن اور علوم الحدیث کو منظم صورت میں پیش کیا۔ بعد کے دور کے علماء میں آپ کا مقام غیر معمولی ہے۔

اسائنمنٹ

       اوپر بیان کردہ مصنفین کے حالات زندگی اور ان کی کتابیں انٹرنیٹ پر تلاش کیجیے اور انہیں اپنی الیکٹرانک لائبریری میں شامل کیجیے۔ اگر آپ عربی زبان سے واقفیت رکھتے ہوں تو ان کتابوں کا مطالعہ شروع کر دیجیے

 

 

حصہ دوم: خبر (حدیث)

 
 

یونٹ 2: خبر کی اقسام

سبق 1: تاریخی معلومات کے حصول کے ذرائع

خبر کے ہم تک پہنچنے کے اعتبار سے اس کی دو اقسام ہیں:

       وہ خبر کو بے شمار ذرائع (طرق) سے ہم تک پہنچی ہو، متواتر کہلاتی ہے۔

       وہ خبر جو محدود واسطوں سے ہم تک پہنچی ہو، "خبر واحد"  کہلاتی ہے۔ اس کی جمع "اخبار احاد" ہے۔ [یہ محدود واسطے ایک یا ایک سے زائد ہو سکتے ہیں۔ اگر یہ ایک سے زائد بھی ہوں تب بھی یہ فن حدیث کی اصطلاح میں خبر واحد ہی کہلاتی ہے۔]

ان دونوں کی مزید اقسام اور دیگر تفاصیل ہم انشاء اللہ عنقریب بیان کریں گے۔ پہلے ہم متواتر کی بحث کرتے ہیں۔

نوٹ: حدیث کی ایک سند کو "طریق" کہتے ہیں۔ اس کی جمع "طرق" ہے۔ تاریخ میں کسی بھی قسم کی معلومات (Information)، خواہ وہ مذہبی ہوں یا نہ ہوں، کو دوسرے لوگوں اور اگلی نسلوں تک منتقل کرنے کے بنیادی طور پر دو طریقے استعمال ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک طریقے کو  تواتر اور دوسرے کو خبر واحد کہا جاتا ہے۔تواتر سے مراد وہ طریقہ ہے جس کے مطابق کسی خبرکو ہر دور میں اتنے زیادہ افراد بیان کرتے ہوں  کہ اس کے بارے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہ رہے۔ اس کے برعکس خبر واحد وہ طریقہ ہے جس کے مطابق کسی خبر کو ایک دو یا چند افراد بیان کرتے ہوں اور ان کے بیان میں غلطی یا شک و شبہ کی گنجائش باقی رہ جائے۔

      تواترکی مثال یوں پیش کی جاسکتی ہے کہ امریکہ میں گیارہ ستمبر2001 کو ورلڈ ٹریڈ سنٹر تباہ ہوگیا۔ یہ واقعہ رونما ہوتے ہی اس کی خبر دنیا بھر کے ٹی وی چینلز، اخبارات اور انٹر نیٹ کے ذریعے دنیا بھر میں پھیل گئی۔ اس واقعے کو موقع پر جا کر ہزاروں افراد نے دیکھا اور بیان کردیا۔ اس معاملے میں دنیا بھر میں کسی کو کوئی اختلاف نہیں ہے کہ یہ واقعہ رونما ہوا تھا کیونکہ اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔

      اب سے پندرہ بیس برس تک کے بعداس واقعے کو دنیا بھر کے اربوں افراد اپنی آنے والی نسل کو سنائیں گے، اس واقعے کے بارے مضامین لکھے جاتے رہیں گے، ویڈیو فلمیں دیکھی جاتی رہیں گی اور اس کا تذکرہ ہوتا رہے گا۔ ہمارے بعد والی نسل کے افراد انہی طریقوں سے ان معلومات کو اپنے سے اگلی نسل میں منتقل کریں گے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ اب سے کئی صدیاں بعد بھی اس بات میں کوئی شک و شبہ موجود نہیں ہوگا کہ 11 ستمبر 2001  کو نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر جہازوں کے ٹکراؤ سے تباہ ہوگئے تھے۔ یہ پورا پراسیس "تواتر" کا عمل کہلاتا ہے۔

      اس ذریعے سے حاصل ہونے والی معلومات حتمی اور قطعی ہوتی ہیں اور ان کے بارے میں کسی شک و شبہے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ چنانچہ ہم لوگ پوری قطعیت کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ1947  میں برصغیر آزاد ہوا تھا، 1857 میں برصغیرمیں جنگ آزادی ہوئی تھی، چار سو سال پہلے اکبر نام کا ایک بادشاہ ہندوستان پر حکومت کرتا تھا، پانچ سو سال پہلے کولمبس نے امریکہ دریافت کیا، آٹھ سو سال پہلے صلاح الدین ایوبی نے صلیبی جنگیں لڑی تھیں، ساڑھے تیرہ سو سال پہلے سانحہ کربلا وقوع پذیر ہوا تھا، ساڑھے چودہ سو سال قبل عرب میں محمد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی بعثت ہوئی تھی اور آپ کے بعد آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس وقت کی مہذب دنیا کا بڑا حصہ فتح کر لیا تھا، دو ہزار سال پہلے فلسطین میں سیدنا مسیح علیہ الصلوۃ والسلام نے دین حق کا علم بلند کیا تھا، چار ہزار سال قبل سیدنا موسی علیہ الصلوۃ والسلام کے مقابلے پر آنے والا فرعون سمندر میں غرق ہوگیا تھا، ساڑھے چار ہزار سال پہلے سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے نمرود کی خدائی کو چیلنج کیا تھا، اور اس سے بھی کہیں پہلے سیدنا نوح علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں زمین پر ایک بہت بڑا سیلاب آیا تھا۔ یہ وہ معلومات ہیں، جن کا کوئی ذی عقل اپنے ہوش و حواس میں رہتے ہوئے انکار نہیں کرسکتا۔ اگر کوئی ان حقائق کا انکار کرتا ہو تو وہ سورج کے روشن ہونے ، دن اور رات کی تبدیل ہونے اور زمین کے گول ہونے کا بھی انکار کر سکتا ہے۔

      ہمارے علمی ذخیرے میں ایسی بہت سی معلومات ہیں جو تواتر کے ذریعے حاصل ہوتی ہیں اور ان کے بارے میں کوئی شک و شبہ نہیں کیا جاسکتا۔ ایسا ضرور ہوسکتا ہے کہ بعض معلومات کے منتقل کرنے کا سلسلہ اگلی نسلوں میں پہنچ کر کسی وجہ سے منقطع ہو جائے اور یہ تواتر ٹوٹ جائے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے بادشاہوں کے وجود اور زمانوں کے بارے میں تاریخ میں اختلاف پایا جاتا ہے کیونکہ ان معلومات کی اتنی اہمیت نہ تھی کہ کوئی انہیں محفوظ رکھنے کا اہتمام کرتا۔ اس کے برعکس انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اور بعض دیگر مذاہب کے بانیوں کے بہت سے واقعات تواتر کے ساتھ منتقل ہوتے چلے آرہے ہیں کیونکہ ان کی اہمیت کے پیش نظر انہیں محفوظ رکھنے کا بھرپور اہتمام کیا گیا تھا۔ یہی اہتمام تواتر کہلاتا ہے۔

      تاریخ میں بہت سی معلومات ہمیں خبر واحد (ایک دو افراد کی دی ہوئی خبر) کی صورت میں بھی ملتی ہیں۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی تباہی کا منظر کسی عینی شاہد نے دیکھا۔ اس نے اپنے ذہن میں موجود تفصیلات کو کسی دوسرے تک منتقل کردیا۔ دوسرے شخص نے ان معلومات کو تیسرے تک ، تیسرے نے چوتھے تک اور چوتھے نے پانچویں شخص تک منتقل کردیا اور یہ سلسلہ چلتا رہا۔ ان معلومات میں اس قسم کی باتیں ہو سکتی ہیں کہ اس نے جہازوں کے ٹکرانے سے پہلے کسی شخص کو مشکوک انداز میں اس عمارت سے نکل کر بھاگتے ہوئے دیکھا تھا، سب سے پہلے 79 ویں منزل تباہ ہوئی تھی، پچاسویں منزل پر موجود فلاں شخص کس طرح زندہ بچا وغیرہ وغیرہ ۔ ورلڈ ٹریڈ سنٹر کا تباہ ہونا تو تواتر سے ثابت ہے لیکن اس کی جزوی تفصیلات خبر واحد سے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی واقعے کے بارے میں مختلف اخبارات کی خبروں میں جزوی سا فرق پایا جاتا ہے کیونکہ اس کی بنیاد ایک دو انسانوں کے مشاہدے اور یاد رکھنے پر ہوتی ہے۔

       انسان کی یہ نفسیات ہوتی ہے کہ وہ کسی بھی واقعے کے ہر پہلو کو جزوی تفصیلات کی حد تک یاد نہیں رکھتا۔ انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ کسی بھی واقعے کو اپنے خیالات، نظریات، دلچسپیوں اور تعصبات کی عینک سے دیکھتا ہے۔ مثلاً اگر کسی جگہ کوئی قتل کا واقعہ ہو جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ ایک گواہ تو پوری تفصیل سے قاتل کا حلیہ بتا دیتا ہے لیکن اس کے قتل کرنے کے انداز کو زیادہ تفصیل سے بیان نہیں کر پاتا کیونکہ اس طریقے میں اس کی دلچسپی نہیں ہوتی اور وہ اسے مناسب حد تک نوٹ نہیں کر پایا ہوتا ۔ اس کے برعکس دوسرا گواہ قاتل کے حلیے کو تو زیادہ تفصیل سے نوٹ نہیں کرتا لیکن قتل کرنے کے انداز کو بڑے واضح انداز میں بیان کر دیتا ہے کیونکہ اس کی دلچسپی اسی میں ہوتی ہے۔

      اسی طریقے سے اگر اس واقعے کو کوئی ایسا شخص بھی دیکھ رہا ہو جواسلحے میں بڑی دلچسپی رکھتا ہو تو وہ باقی چیزوں کی نسبت آلہ قتل کی جزئیات کو بڑی تفصیل سے بیان کردے گا۔  ایسا بھی ممکن ہے کہ کسی شخص نے قاتل کو پہچان لیا ہو لیکن وہ کسی ذاتی مفاد یا خوف کی وجہ سے اس کے بارے میں غلط معلومات فراہم کر دے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہی واقعے کو بیان کرنے والوں میں تفصیلات کے بارے میں کچھ نہ کچھ اختلاف رونما ہو ہی جاتا ہے۔

      جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں کہ ہمارے اخبارات کسی بھی بڑے واقعے کی جب رپورٹنگ کرتے ہیں تو ان میں اس کے بارے میں بعض تفصیلات میں اختلاف موجود ہوتا ہے۔ کسی حادثے کی صورت میں مرنے والے یا زخمی ہونے والوں کی تعداد کیا تھی، حادثے میں قصور کس کا تھا، جیسے معاملات میں اخباری رپورٹرز کے بیانات کے فرق کی وجہ سے مختلف اخبارات مختلف معلومات دیتے ہیں جبکہ اس بات پر سب کا اتفاق ہوتا ہے کہ یہ واقعہ رونما ہوا ہے۔

      یہ چیز بھی عام مشاہدے میں دیکھنے میں آتی ہے کہ ایک شخص دوسرے کے سامنے واقعے کو بالکل درست بیان کردیتا ہے لیکن دوسرا تیسرے کے سامنے بیان کرتے وقت اپنے کسی مفاد کے تحت، یا پھر محض غفلت و لاپرواہی کی وجہ سے اس میں کچھ کمی بیشی بھی کر دیتا ہے۔ آپ نے وہ کھیل کھیلا یا پھر دیکھا ضرور ہوگا جس میں ایک فرد کو کوئی جملہ بتایا جاتا ہے اور اس نے اسے اپنے ساتھی کے کان میں بتانا ہوتا ہے۔ بہت سے ساتھیوں سے گزر کر جب وہی جملہ آخری فرد سے پوچھا جاتا ہے تو اس کا جواب اصل جملے سے خاصا مختلف ہوتا ہے۔

      یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں تواتر سے حاصل ہونے والی معلومات سو فیصد قطعی اور یقینی (Confirm)   ہوتی ہیں اور ان میں کسی قسم کے اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس خبر واحد سے حاصل ہونے والی معلومات سو فیصد یقین کے درجے پر نہیں پہنچتیں بلکہ ان میں کسی نہ کسی حد تک شک و شبہ پایا جاتا ہے۔ اس شک و شبہ کو تحقیق کے طریقوں سے کم از کم سطح پر لایا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محدثین نے اصول حدیث کا فن ایجاد کیا تاکہ خبر واحد سے حاصل کردہ معلومات کو پرکھا جا سکے۔

سوالات

       اوپر بیان کردہ مثالوں کے علاوہ کسی بھی قسم کی ایسی تاریخی معلومات کی مثال بیان کیجیے جو ہم تک تواتر سے پہنچی ہوں۔

       مختلف افراد کی دی گئی خبروں میں فرق کیوں واقع ہو جاتا ہے۔

سبق 2: خبر متواتِر

متواتر کی تعریف

لغوی اعتبار سے "متواتر"، "تواتر" سے نکلا ہے اور اس کا اسم فاعل ہے۔ تواتر کا مطلب ہوتا ہے کسی چیز کا مسلسل اور لگاتار ہونا۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے "متواتر بارش ہوتی رہی" یعنی کہ بارش مسلسل اور لگاتار ہو رہی ہے۔

          اصطلاحی مفہوم میں متواتر وہ حدیث ہو گی جس کے بیان کرنے والے اتنی کثیر تعداد میں ہیں کہ ان کا جھوٹ پر متفق ہونا ناممکن ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ متواتر وہ حدیث ہوگی جس کی روایت ہر نسل کے افراد اتنی کثیر تعداد میں کر رہے ہوں کہ یہ بات عقلاً ناممکن ہو کہ انہوں نے کسی غلط یا جھوٹی بات پر اتفاق رائے کر لیا ہوگا۔

متواتر کی شرائط

اس تعریف سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ کوئی خبر اس وقت تک متواتر نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس میں یہ چار شرائط نہ پائی جاتی ہوں۔

       اسے روایت کرنے والے کثیر تعداد میں ہوں۔ اس بات میں اختلاف رائے ہے کہ کم از کم کتنے افراد کو کثیر تعداد کہا جائے گا؟ اہل علم نے کم از کم "دس" افراد ہونے کو ترجیح دی ہے۔[5]

        (اب سے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم تک) ہر نسل اور ہر زمانے میں راویوں کی تعداد کثیر ہو۔

       ان افراد کا جھوٹی بات پر اکٹھا ہو جانا عقلاً ناممکن ہو۔ (یہ اس وقت ہی ہوگا جب یہ راوی مختلف شہر، جنس، مذہب وغیرہ سے تعلق رکھتے ہوں۔ اس کے بغیر ہو سکتا ہے کہ راوی کثیر ہوں لیکن خبر متواتر نہ ہو یا پھر راوی کم ہوں لیکن خبر متواتر ہو جائے۔)

نوٹ: ان شرائط کی وجہ یہ ہے کہ ایک نقطہ نظر کے ماننے والے باقاعدہ پلاننگ کر کے کسی بات کا پروپیگنڈہ کر سکتے ہیں لیکن اگر مختلف نقطہ ہائے نظر کے حاملین ایک ہی بات کر رہے ہوں تو پھر یہ امر محال ہو جائے گا۔

        اس خبر کو وہ ایک حسی مشاہدے کے طور پر بیان کریں یعنی یہ کہیں کہ "ہم نے یہ دیکھا ہے۔۔۔۔"، "ہم نے یہ سنا ہے ۔۔۔۔"، "ہم نے اسے چھوا ہے ۔۔۔۔"۔ اگر وہ محض اپنی عقل سے قیاس آرائی کر رہے ہوں گے جیسا کہ لوگوں نے دنیا کے آغاز (یا مختلف جانوروں کے ارتقاء) سے متعلق کی ہیں تو یہ خبر متواتر نہ ہو گی۔

متواتر کا حکم

خبر متواتر سے قطعی اور یقینی علم حاصل ہوتا ہے۔ یہ اتنا یقینی علم ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے انسان مجبور ہو جاتا ہے کہ وہ اس خبر کی اسی طرح تصدیق کرے جیسا کہ وہ بذات خود اس کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ اسے اس خبر کی تصدیق میں کوئی تردد نہیں ہونا چاہیے۔ خبر متواتر ایسی ہی ہوتی ہے اور ہر خبر متواتر کو لازماً قبول کیا جاتا ہے۔ اس کے راویوں کی چھان بین کی ضرورت بھی نہیں ہوتی (کیونکہ وہ اتنے زیادہ اور مختلف (Diversified) ہیں کہ ان کا جھوٹ پر اکٹھے ہونا ناممکن ہے۔)

متواتر کی اقسام

خبر متواتر کی دو اقسام ہیں، لفظی اور معنوی۔

       متواتر لفظی وہ خبر ہوتی ہے جس کے الفاظ اور معانی دونوں ہی تواتر سے منتقل کئے گئے ہوں۔ اس کی مثال یہ حدیث ہے، "جس نے جان بوجھ کر مجھ (یعنی رسول اللہ) سے جھوٹی بات منسوب کی، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔" اسے ستر سے زائد صحابہ نے روایت کیا ہے۔

       متواتر معنوی وہ خبر ہوتی ہے جس کے الفاظ تواتر سے نہ منتقل نہ کئے گئے ہوں لیکن معنی تواتر سے منتقل کیا گیا ہو۔ اس کی مثال دعا میں ہاتھ اٹھانا ہے۔ اس معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم سے سو سے زائد احادیث روایت کی گئی ہیں اور ان سب میں یہ ہے کہ آپ نے دعا کے وقت ہاتھ اٹھائے لیکن یہ بات مختلف الفاظ میں بیان کی گئی ہے۔ کسی ایک جملے کو لفظاً تواتر حاصل نہیں ہے لیکن مختلف طرق (سند کے سلسلوں) کو اکٹھا کرنے سے معنوی تواتر حاصل ہو جاتا ہے۔[6]

متواتر کا وجود

اس میں کوئی شک نہیں کہ متواتر احادیث پائی جاتی ہیں جیسا کہ حوض، موزوں پر مسح کرنے، نماز میں ہاتھ اٹھانے، حدیث کو آگے پہنچانے، والی احادیث اور ان کے علاوہ دیگر۔ لیکن اگر ہم اخبار آحاد کی تعداد کو دیکھیں تو اس کے مقابلے میں متواتر احادیث کی تعداد بہرحال بہت کم ہے۔

متواتر سے متعلق مشہور تصانیف

اہل علم نے متواتر احادیث کو جمع کرنے کی کوششیں کی ہیں اور اس ضمن میں مستقل تصانیف کی ہیں تاکہ ایک طالب علم کے لئے ان کی طرف رجوع کرنا آسان ہو۔ ان میں یہ تصانیف شامل ہیں:

       الازھار المتناثرہ فی الاخبار المتواترہ: یہ جلال الدین سیوطی کی تصنیف ہے۔ یہ کتاب ابواب میں تقسیم شدہ ہے۔

       قطف الازھار: یہ بھی سیوطی کی کتاب ہے۔ اس میں انہوں نے پہلی کتاب کی تلخیص کی ہے۔

       نظم المتناثر من الحدیث المتواتر: اس کے مصنف محمد بن جعفر الکتانی ہیں۔

سوالات اور اسائنمنٹ

       متواتر لفظی اور معنوی میں فرق بیان کیجیے۔

       اوپر بیان کردہ کتب حدیث کو انٹرنیٹ پر تلاش کر کے اپنی الیکٹرانک لائبریری میں شامل کیجیے۔

سبق 3: خبر واحد

خبر واحد کی تعریف

لغوی اعتبار سے "واحد" کا مطلب ہے ایک۔ خبر واحد وہ خبر ہے جو ایک شخص نے روایت کی ہو۔ اصطلاحی مفہوم میں خبر واحد وہ خبر ہے جس میں تواتر کی شروط جمع نہ ہوں[7] (خواہ اس کے روایت کرنے والے ایک سے زیادہ ہی کیوں نہ ہوں۔)

خبر واحد کا حکم

خبر واحد سے غیر یقینی (ظنی) علم حاصل ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس علم پر بحث و استدلال کی گنجائش ہوتی ہے۔

خبر واحد کی اقسام

خبر واحد کی طرق (اسناد) کی تعداد کے اعتبار سے تین اقسام ہیں:

       مشہور

       عزیز

       غریب

ہم ان میں سے ہر ایک پر مستقل بحث کریں گے۔

سوالات اور اسائنمنٹ

       متواتر اور خبر واحد میں فرق بیان کیجیے۔

       خبر واحد کی پانچ اقسام کے نام لکھیے۔

سبق 4: خبر مشہور

خبر مشہور کی تعریف

لغوی اعتبار سے "مشہور" شہرت کا اسم مفعول ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ جو چیز ظاہر اور مشہور ہو جائے۔ اس کو ظاہر ہونے کے باعث مشہور کہا جاتا ہے۔ اصطلاحی مفہوم میں "خبر مشہور" ایسی خبر کو کہتے ہیں جسے ہر دور میں کم از کم تین افراد نے روایت کیا ہو اگرچہ یہ حد تواتر تک نہ پہنچی ہو۔

خبر مشہور کی مثال

یہ حدیث مشہور ہے کہ "اللہ تعالی علم کو ویسے ہی لوگوں کے سینوں سے غائب نہیں کر دیتا بلکہ وہ اہل علم کو اس دنیا سے اٹھا لیتا ہے یہاں تک کہ کوئی (صحیح) عالم باقی نہیں رہ جاتا۔ لوگ اپنے جاہل سرداروں کے پاس جا کر سوال پوچھتے ہیں اور وہ بغیر علم کے انہیں فتوی دے کر انہیں گمراہ کر دیتے ہیں۔"[8]

خبر مستفیض اور خبر مشہور

لغوی اعتبار سے "مستفیض" استفاض سے نکلا ہے جو خود "فاض" سے مشتق ہے۔ اس کا معنی ہے کسی چیز جیسے پانی کا پھیلنا۔ اصطلاحی مفہوم میں اس کے تین معنی ہیں۔

       یہ مشہور کا مترادف ہے۔

       یہ مشہور کی نسبت زیادہ مخصوص اور متعین ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مستفیض کی شرط یہ ہے کہ اس کی اسناد برابر ہوں جب کہ مشہور میں یہ شرط نہیں ہے۔

       یہ مشہور کی نسبت زیادہ عام ہے۔ یہ دوسری رائے کے مخالف نقطہ نظر ہے۔

 غیر اصطلاحی معنی میں خبر مشہور

غیر اصطلاحی معنی میں مشہور ایسی خبر کو کہتے ہیں جو کہ لوگوں کی زبان پر عام ہو جائے اگرچہ وہ قابل اعتبار نہ بھی ہو۔ اس میں وہ خبریں بھی شامل ہیں جن کی ایک یا ایک سے زیادہ سند بھی نہ ہو، اور نہ ہی اس کی سند اپنی اصل میں پائی جائے۔

غیر اصطلاحی خبر مشہور کی اقسام

غیر اصطلاحی خبر مشہور کی متعدد اقسام ہیں:

       حدیث کے ماہرین میں مشہور خبر: اس کی مثال سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی وہ روایت ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے ایک مہینہ رکوع کے بعد رعل اور ذکوان کے بارے میں دعائے ضرر فرمائی۔[9]

       حدیث کے ماہرین، عام علماء اور عوام میں مشہور خبر: اس کی مثال یہ حدیث ہے کہ، "مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔"[10]

       فقہ کے ماہرین میں مشہور خبر: اس کی مثال یہ حدیث ہے کہ "حلال کاموں میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ کام طلاق ہے۔"[11]

       اصول فقہ کے ماہرین میں مشہور خبر: اس کی مثال وہ حدیث ہے کہ "میری امت سے غلطی اور بھول چوک کی صورت میں کئے گئے ناپسندیدہ کام پر مواخذہ نہ ہو گا۔" اسے ابن حبان اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔

       نحو کے ماہرین میں مشہور خبر: جیسے "صہیب کتنا اچھا بندہ ہے۔ اگر وہ اللہ سے نہ ڈرتا ہوتا تو اس کی نافرمانی کرتا۔" یہ ایک بے اصل حدیث ہے۔

       عام لوگوں میں مشہور خبر: جیسے "جلدی شیطان کی طرف سے ہوتی ہے۔" اسے ترمذی نے اپنی کتاب میں درج کیا اور اسے حسن قرار دیا۔

خبر مشہور کا حکم

خبر مشہور خواہ وہ اصطلاحی معنی میں ہو یا نہ ہو، صحیح یا غیر صحیح ہو سکتی ہے۔ اس میں صحیح، حسن، ضعیف اور موضوع احادیث سب کی سب پائی جائیں گی۔ اگر اصطلاحی معنی میں مشہور حدیث، صحیح ہو تو پھر اس کی شہرت کی خصوصیت کی بنیاد پر اسے عزیز اور غریب قسم کی احادیث پر ترجیح دی جائے گی۔

خبر مشہور سے متعلق اہم تصانیف

غیر اصطلاحی معنی میں مشہور احادیث پر کئی کتب تصنیف کی گئی ہیں جن میں سے کچھ یہ ہیں:

       امام سخاوی کی المقاصد الحسنة فيما اشتهر على الألسنة

       عجلونی کی كشف الخفاء ومزيل الإلباس فيما اشتهر من الحديث على السنة الناس

       ابن الدیبغ الشیبانی کی تمييز الطيب من الخبيث فيما يدور على ألسنة الناس من الحديث

سوالات اور اسائنمنٹ

       خبر مشہور کی تعریف کیجیے اور اس کا حکم بیان کیجیے۔

       اوپر بیان کردہ کتب حدیث کو انٹرنیٹ پر تلاش کر کے اپنی الیکٹرانک لائبریری میں شامل کیجیے۔

سبق 5: خبر عزیز

خبر عزیز کی تعریف

لغوی اعتبار سے یہ یا تو "عَزَّ یَعِزُ" سے صفت مشبہ ہے جس کا مطلب ہے قلیل ہونا یا پھر یہ "عَزَ یَعَزُ" سے صفت مشبہ ہے جس کا معنی ہے قوی اور طاقتور ہونا۔ اسے یہ نام اس کے قلیل اور نادر ہونے کے باعث دیا گیا ہے۔ یہ ایسی حدیث ہے جو کسی اور سند کے باعث قوت پکڑتی ہے (لیکن بذات خود یہ ایک ایسی روایت ہوتی ہے جس کے راوی کم ہوتے ہیں۔)

تعریف کی وضاحت

ایسی حدیث کو "عزیز" کہا جاتا ہے جس کی روایت ہر دور میں دو یا دو سے کم افراد کر رہے ہوں۔ یہ ممکن ہے کسی دور میں اس کے راوی تین یا تین سے زائد بھی ہو جائیں لیکن کسی ایک دور میں اس کے راویوں کی تعداد کا دو سے کم ہو جانا ضروری ہے کیونکہ (تعریف متعین کرنے میں) کم طبقات کا اعتبار کیا جائے گا۔ یہ وہ تعریف ہے جو قابل ترجیح ہے جیسا کہ حافظ ابن حجر نے لکھا ہے[12]۔ بعض اہل علم کے نزدیک عزیز دو یا تین افراد کی روایت کو کہتے ہیں۔ یہ لوگ بعض صورتوں میں مشہور اور عزیز کے مابین فرق نہیں کرتے۔

خبر عزیز کی مثالیں

جیسا کہ شیخین (امام بخاری و مسلم رحمھما اللہ) نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے اور امام بخاری نے سیدنا ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا: "تم میں سے کوئی بھی اس وقت تک صاحب ایمان نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ مجھ سے اپنے والدین، اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ محبت نہ کرنے لگے۔"[13]

          اس حدیث کو سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے قتادہ اور عبدالعزیز بن صھیب نے روایت کیا۔ اس کے بعد قتادہ سے اس حدیث کو شعبہ اور سعید نے روایت کیا جبکہ عبدالعزیز بن صھیب سے اسماعیل بن علیہ اور عبدالوارث نے روایت کیا۔ ان میں سے ہر ایک سے پھر بہت سے افراد نے روایت کیا۔

خبر عزیز سے متعلق اہم تصانیف

اہل علم نے خاص طور پر خبر عزیز سے متعلق کوئی کتاب نہیں لکھی۔ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ چونکہ ایسی احادیث بہت قلیل تعداد میں ہیں اور انہیں الگ سے لکھنے کا کوئی فائدہ بھی نہ تھا، اس وجہ سے ایسا نہیں کیا گیا۔

سوالات اور اسائنمنٹ

       خبر عزیز اور مشہور میں کیا فرق ہے؟

       خبر عزیز کا حکم بیان کیجیے۔

سبق 6: خبر غریب (اکیلے شخص کی خبر)

خبر غریب کی تعریف

لغوی اعتبار سے یہ صفت مشبہ ہے اور اس کا معنی ہے ایسا منفرد شخص جو اپنے اقربا سے بھی دور ہو۔ اصطلاحی مفہوم میں اس کا مطلب ہے ایسی روایت جو کسی ایک شخص کی ہو اور وہ اپنی روایت میں منفرد ہو۔ [عربی میں "غربت" کا معنی ہوتا ہے تنہائی۔ یہ اردو کے لفظ غربت سے مختلف معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔]

تعریف کی وضاحت

ایسی حدیث کو "غریب" کہا جاتا ہے جس کی روایت ہر دور میں ایک ہی شخص کر رہا ہو۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ چند ادوار یا صرف ایک ہی دور میں اس کی روایت ایک ہی شخص کر رہا ہو۔ اگر کسی دور میں ایک سے زائد افراد بھی اس کی روایت کر رہے ہوں تو اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ اس دور کا اعتبار کیا جائے گا جس میں اس کی روایت صرف ایک ہی شخص نے کی ہے۔

خبر غریب کا دوسرا نام

بہت سے اہل علم "خبر غریب" کا دوسرا نام "خبر الفرد" بھی بیان کرتے ہیں کیونکہ یہ دونوں مترادف الفاظ ہیں۔ بعض علماء ان دونوں کے درمیان فرق کرتے ہیں اور ان دونوں کو الگ الگ اقسام شمار کرتے ہیں لیکن حافظ ابن حجر عسقلانی (وفات 852ھ) انہیں لغوی اور اصطلاحی معنی میں ایک ہی مترادف قرار دیتے ہیں۔ ہاں وہ یہ ضرور کہتے ہیں کہ، "اہل اصطلاح نے کثرت استعمال اور قلت استعمال کی بنیاد پر ان دونوں قسم کی احادیث میں فرق کیا ہے، وہ لوگ "فرد"، "فرد مطلق" کو قرار دیتے ہیں جبکہ غریب سے اکثر اہل علم "فرد النسبی" مراد لیتے ہیں۔[14]

خبر غریب کی اقسام

خبر غریب کی انفرادیت کی بنیاد پر دو اقسام ہیں: غریب مطلق اور غریب نسبی:

       "غریب مطلق" یا "فرد مطلق" ایسی حدیث کو کہا جاتا ہے جس کی سند کی ابتدا (یعنی صحابی) ہی میں انفرادیت پائی جاتی ہو (یعنی اسے ایک صحابی روایت کر رہا ہو۔) اس کی مثال یہ حدیث ہے "اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔"[15] یہ حدیث صرف سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ یہ انفرادیت سند کے آخر تک برقرار رہتی ہے کہ ہر دور میں اس حدیث کو روایت کرنے والا ایک شخص ہی ہوتا ہے۔

       "غریب نسبی" یا "فرد نسبی" ایسی حدیث کو کہا جاتا ہے جس کو اصل میں زیادہ صحابہ نے روایت کیا ہو لیکن بعد میں اس کو روایت کرنے والا اکیلا رہ گیا ہو۔ اس کی مثال یہ حدیث ہے کہ "مالک، زہری سے اور وہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سر مبارک پر خود (Helmet) تھا۔"[16] اس حدیث کی روایت میں امام مالک، زہری سے روایت کرنے میں اکیلے ہیں۔ اس قسم کی حدیث کو "غریب نسبی" اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ اس میں اکیلا پن کسی متعین شخص کی نسبت سے پیدا ہوتا ہے۔

غریب نسبی کی ذیلی اقسام

غریب نسبی میں اکیلے پن کے اعتبار سے متعدد اقسام پائی جاتی ہیں۔ اس قسم کی حدیث میں اکیلا پن مطلق (یعنی صحابی کی وجہ سے نہیں ہے) بلکہ اس میں اکیلا پن بعد میں کسی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ اس کی اقسام یہ ہیں:

       ثقہ (قابل اعتماد) شخص کے اکیلا ہونے کے باعث حدیث کی انفرادیت: جیسے کہا جائے کہ "اس حدیث کو سوائے فلاں کے کسی اور ثقہ شخص نے روایت نہیں کیا۔"

       کسی متعین راوی کے دوسرے متعین راوی سے اکیلے روایت کرنے کے باعث حدیث کی انفرادیت: جیسا کہ کہا جائے "اس حدیث کو صرف فلاں ہی نے فلاں سے روایت کیا۔"

       کسی شہر یا ملک کی وجہ سے حدیث کی انفرادیت: جیسا کہ کہا جائے "اس حدیث کو صرف اہل مکہ نے یا صرف اہل شام ہی نے روایت کیا۔"

       کسی شہر یا ملک کے راویوں کے کسی دوسرے شہر یا ملک کے راویوں سے روایت کرنے کی وجہ سے حدیث کی انفرادیت: جیسا کہ کہا جائے کہ "اس حدیث کو صرف اہل بصرہ ہی اہل مدینہ سے روایت کرتے ہیں یا پھر صرف اہل شام ہی اہل حجاز سے روایت کرتے ہیں۔"

غریب احادیث کی دوسری تقسیم

حدیث کے سند یا متن کے اکیلے پن کے اعتبار سے غریب حدیث کی دو اقسام ہیں:

       متن اور سند دونوں کے اعتبار سے غریب حدیث: یہ وہ حدیث ہے جس کے متن کی روایت کرنے والا فرد صرف ایک ہے۔

       صرف سند کے اعتبار سے غریب حدیث: یہ وہ حدیث ہے جس کا متن تو کثیر صحابہ نے روایت کیا ہو البتہ اس کی سند ہر صحابی سے اکیلے اکیلے روایت کی گئی ہو۔ اسی کے بارے میں امام ترمذی کہتے ہیں کہ "یہ اس (یعنی سند کے) پہلو سے غریب حدیث ہے۔"

غریب احادیث کہاں پائی جاتی ہیں؟

ان کتب میں غریب احادیث کثرت سے پائی جاتی ہیں:

       مسند بزاز

       طبرانی کی معجم الاوسط

غریب احادیث سے متعلق مشہور تصانیف

ان کتب میں غریب احادیث کثرت سے پائی جاتی ہیں:

       غرائب مالک از دارقطنی

       الأفراد از دارقطنی

       السنن التي تفرد بكل سنة منها أهل بلدة از ابو داؤد السجستانی

سوالات اور اسائنمنٹ